
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سیمی فائنل کی دوڑ فیصلہ کن مرحلے میں، ایشیائی ٹیموں پر خطرات منڈلانے لگے
اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک رسائی کی جنگ انتہائی سنسنی خیز اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور پہلی بار کسی بھی ایشیائی ٹیم کے سیمی فائنل سے باہر رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جنوبی افریقا کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارت کی پوزیشن غیر یقینی ہو گئی ہے، جبکہ پاکستان بھی اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہے۔ سری لنکا نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہو چکی ہے، افغانستان سپر ایٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہیں کر سکا، جبکہ بنگلہ دیش نے احتجاجاً ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کی۔
پاکستان کو سیمی فائنل کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو لازمی شکست دینا ہوگی، ساتھ ہی دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی نظریں مرکوز رکھنی ہوں گی۔ دوسری جانب بھارت کو زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کھیلنے ہیں، جن کے نتائج بھی پوائنٹس ٹیبل پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
اگر ویسٹ انڈیز جنوبی افریقا کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ بھی سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے مقابلہ مزید سخت ہو جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ پلس 3.050 ہے، جبکہ پاکستان کا نیٹ رن ریٹ منفی 0.461 ہے۔ پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کا انحصار نہ صرف فتح پر بلکہ نیٹ رن ریٹ بہتر بنانے پر بھی ہوگا۔
اگر نیوزی لینڈ اپنے آخری میچ میں انگلینڈ سے شکست کھا جاتا ہے تو پاکستان کے امکانات برقرار رہ سکتے ہیں۔ تاہم اگر جمعے کو پالے کیلے میں نیوزی لینڈ انگلینڈ کو ہرا دیتا ہے تو وہ سیمی فائنل میں جگہ بنا لے گا اور ہفتے کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والا میچ محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
ٹورنامنٹ کے اختتامی مراحل میں صورتحال ہر میچ کے ساتھ بدل رہی ہے، جس کے باعث شائقین کرکٹ کی نظریں آئندہ مقابلوں پر جمی ہوئی ہیں۔