زرداری

صدر آصف علی زرداری کا بریسٹ کینسر سے آگاہی، بچاؤ اور علاج کی عالمی کوششوں سے اظہارِ یکجہتی

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے زندگیوں کو محفوظ بنانے کے عزم کی تجدید کرتا ہے، اور بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی، بچاؤ اور علاج تک رسائی کے اقدامات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

عالمی یومِ آگاہی برائے بریسٹ کینسر کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر نے کہا کہ ’’دنیا ہر سال 19 اکتوبر کو یہ دن مناتی ہے تاکہ بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور بہتر بقا کے امکانات کے لیے مشترکہ کوششوں کو متحد کیا جا سکے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’بریسٹ کینسر پاکستانی خواتین میں سب سے زیادہ تشخیص ہونے والا سرطان ہے، جو ملک میں خواتین کو متاثر کرنے والے تمام کینسرز کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔‘‘

صدر مملکت نے کہا کہ یہ بیماری تمام عمر اور سماجی و معاشی پس منظر رکھنے والی خواتین کو متاثر کرتی ہے، تاہم اگر اسے ابتدائی مرحلے میں تشخیص کر لیا جائے تو یہ قابلِ علاج ہے اور اس کی صحت یابی کی شرح 90 فیصد سے زائد ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا اجتماعی چیلنج خاموشی کو توڑنے، بدنامی کے داغ کو ختم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں ہے کہ کوئی بھی خاتون خوف یا مالی رکاوٹوں کے باعث اسکریننگ یا علاج میں تاخیر نہ کرے۔‘‘

ایوانِ صدر کے پریس وِنگ کے مطابق صدر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان، وزارتِ قومی صحت، ضوابط و ہم آہنگی (M/o NHSR&C) کی قیادت میں، اس بڑھتی ہوئی صحت کے مسئلے کے حل کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔
اہم اقدامات میں تیسرے درجے کے اسپتالوں اور صوبائی تدریسی اسپتالوں میں خصوصی بریسٹ کینسر کلینکس کا قیام، مفت میموگرافی اور تشخیصی سہولیات کی فراہمی، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور بنیادی طبی عملے کی تربیت شامل ہے تاکہ وہ بیماری کی ابتدائی علامات پہچان سکیں اور خواتین کو بروقت اسکریننگ اور علاج کے مراکز کی جانب رہنمائی فراہم کریں۔

صدر نے مزید بتایا کہ ’’بریسٹ کینسر کی اسکریننگ کو پرائمری ہیلتھ کیئر (PHC) اور تولیدی، زچگی، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت (RMNCH) پروگرامز میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ کمیونٹی سطح پر آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ اکتوبر کے مہینے میں میڈیا، جامعات اور سرکاری اداروں کے تعاون سے ملک گیر آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں، جن میں عالمی ادارہ صحت (WHO)، یو این ایف پی اے (UNFPA) اور صوبائی محکمہ صحت بھی شریک ہیں۔‘‘

صدر زرداری نے کہا کہ ’’حکومت نیشنل کینسر رجسٹری اور کینسر کنٹرول پروگرام کی تشکیل پر کام کر رہی ہے، جس میں بریسٹ کینسر کے اعداد و شمار پر مبنی پالیسی سازی کے لیے شواہد فراہم کیے جائیں گے۔ دور دراز علاقوں کی خواتین تک ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل ہیلتھ سروسز کے ذریعے مشاورت، فالو اپ اور رہنمائی پہنچانا اس بیماری کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان اقدامات کے ساتھ حکومت نجی و فلاحی شعبے کی شراکت داری کو بھی فروغ دے رہی ہے تاکہ کینسر کی روک تھام، تحقیق اور مریضوں کی معاونت کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔‘‘

صدر مملکت نے اس موقع پر تمام پاکستانیوں — مرد و خواتین — سے اپیل کی کہ وہ آگاہی اور بروقت تشخیص کی قومی مہم میں شریک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ’’اپنی ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کو باقاعدہ خود معائنہ کرنے، کلینیکل اسکریننگ میں حصہ لینے اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر طبی مشورہ لینے کی ترغیب دیں۔ بروقت تشخیص زندگی بچا سکتی ہے، خاندان محفوظ کر سکتی ہے اور قوم کو مضبوط بنا سکتی ہے۔‘‘

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بطور صدرِ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آگاہی، رسائی اور جوابدہی کے ذریعے بریسٹ کینسر سے ہونے والی قابلِ تدارک اموات کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم ہمدردی، سائنس اور قومی کوششوں کے تسلسل کے ذریعے یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ پاکستان کی ہر خاتون صحت، وقار اور امید کے ساتھ زندگی گزارے۔‘‘

آخر میں صدر نے قوم کی صحت، مضبوطی اور بیمار خواتین کی جلد شفایابی کے لیے دعا کی۔

پاکستان Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا بریسٹ کینسر سے آگاہی مہم میں عوامی تعاون پر زور
ترکمانستان Next post ترکمانستان میں بین الاقوامی کانفرنس و نمائش CIET 2025 کا انعقاد