انڈونیشیا

انڈونیشیا میں پہلی قومی انسانی حقوق کانفرنس کی تیاری، وزارتِ انسانی حقوق ترقیاتی حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہے

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ انسانی حقوق نے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 سے 10 دسمبر تک منعقد ہونے والی قومی انسانی حقوق (HAM) ترقیاتی پلاننگ کانفرنس کے لیے انسانی حقوق کی ترقی سے متعلق حکمتِ عملی اور عملی اقدامات مرتب کر رہی ہے۔

منگل کے روز جاری ایک بیان میں وزیرِ انسانی حقوق نتالیئس پیگائے نے کہا کہ یہ انڈونیشیا کی تاریخ کی پہلی قومی HAM کانفرنس ہوگی، جو انسانی حقوق کی ترقی کو ایک غیر مرئی اثاثے (intangible asset) کے طور پر تسلیم کرنے کی اہم تاریخی پیش رفت ہے۔

پیگائے نے کہا، "اب تک قومی ترقیاتی مشاورتیں ہوتی رہی ہیں، اور اب حکومت کی جانب سے پہلی بار قومی انسانی حقوق کانفرنس بھی منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ سب سے اہم تاریخی سنگ میلوں میں سے ایک ہے۔”

وزیر نے وضاحت کی کہ قومی HAM کانفرنس قومی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور صدر پرابوو سبیانتو کی اس ہدایت کا تسلسل ہے، جس کے تحت انسانی حقوق کو پہلی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔

یہ کانفرنس پرابوو-گبِران انتظامیہ کے AstaCita مشن کے پہلے ایجنڈے—یعنی نظریۂ پانچاسیلا، جمہوریت اور انسانی حقوق کی بنیادوں کو مضبوط بنانے—کے عین مطابق ہے۔

فورم میں انسانی حقوق کی قومی سطح پر ترقی، اسٹریٹجک منصوبوں پر عمل درآمد، قومی ترقی میں انسانی حقوق کی مرکزی حیثیت کو یقینی بنانے، اور 2045 تک عالمی قیادت کے ہدف کے حصول کے لیے اقدامات مرتب کیے جائیں گے۔

وزیر کے مطابق، "انسانی حقوق دنیا کے سب سے قیمتی غیر مرئی اثاثوں میں سے ایک ہیں، جو ہر انسان کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ ان حقوق کو مستقبل کی قومی ترقی کے لیے تکنیکی، اسٹریٹجک اور ٹیکنوکریٹک پالیسیوں کی صورت میں ڈھالا جائے گا۔”

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کا افتتاح نیشنل ڈویلپمنٹ پلاننگ ایجنسی (Bappenas) کے سربراہ رحمت پامبوڈی کریں گے، جبکہ وفاقی وزارتوں، مختلف ایجنسیوں اور علاقائی حکام کی بھرپور شرکت متوقع ہے۔

پیگائے نے مزید کہا، "بپیناس کے سربراہ اور ان کی ٹیم کے ساتھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور انہوں نے اپنی مکمل آمادگی ظاہر کی ہے۔ کانفرنس میں پولیس، فوج، وزارتِ داخلہ اور دیگر اداروں کے رہنما بھی انسانی حقوق کی قومی ترقی کے حوالے سے بطور ماہرین شریک ہوں گے۔”

پی آئی اے Previous post پی آئی اے کی نجکاری میں اہم پیش رفت؛ وسط دسمبر میں بولی کا عمل
ایران Next post ایران، چین اور روس کا اقوامِ متحدہ کو مشترکہ خط، سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مدت پوری ہونے کی تصدیق