
وزیر اعظم شہباز شریف کا عالمی تنازعات کے پرامن حل اور افغان طالبان سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کا مطالبہ
اشک آباد، یورپ ٹوڈے: وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کو عالمی سطح پر تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کریں۔
اقوام متحدہ کے ’’انٹرنیشنل ایئر آف پیس اینڈ ٹرسٹ 2025‘‘، ’’انٹرنیشنل ڈے آف نیوٹرلٹی‘‘ اور ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ بین الاقوامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تنازعات کے پرامن حل کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی، جسے بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی منظور کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سال 2025 کا آغاز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہو کر کیا، جہاں وہ عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھا رہا ہے اور بدقسمتی سے اس بار اس کی جڑیں افغان سرزمین تک پھیلی ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان عبوری حکام کو اپنے وعدوں کی تکمیل اور دہشت گرد عناصر کی بیخ کنی کے لیے موثر اقدامات پر آمادہ کرے۔
وزیر اعظم نے قطر، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے خلوص نیت سے کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری پاکستان کے مؤقف اور تنازعات کے پرامن حل کے وژن کا بھرپور اعتراف ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ عرب اسلامی ممالک کے آٹھ رکنی گروپ کا حصہ ہونے کے ناطے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کوششیں بے گناہ فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ، مستقل جنگ بندی کے قیام، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی تعمیر نو میں معاون ثابت ہوں گی۔ انہوں نے فلسطینی عوام اور جدوجہدِ حقِ خودارادیت میں مصروف کشمیریوں کی غیرمتزلزل حمایت کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پائیدار امن کا راستہ پائیدار ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں 2030 ایجنڈا دنیا کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی ہے، جس کے لیے مالی شمولیت، خواتین اور محروم طبقات کو معاشی دھارے میں لانے کے لیے نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے باوجود سبز اور صاف توانائی کے فروغ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر مثال قائم کی ہے، تاہم موسمیاتی آفات اور عالمی معاشی عدم مساوات نے ترقی پذیر ممالک کے لیے پائیدار ترقی کے سفر کو مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں تباہ کن سیلاب اور جانی و مالی نقصانات کے بعد رواں برس بھی پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات سرحدوں سے ماورا چیلنجز ہیں، جن کا حل عالمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ جدید خصوصاً ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز تک رسائی غیر امتیازی اور مساوی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔
وزیر اعظم نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس فورم کو عملی اقدامات کے آغاز کا ذریعہ بنائیں، اور بین الاقوامی تعلقات کے نئے تصور کی تشکیل کریں جو صفر جمع سوچ کے بجائے تعاون، یکجہتی اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہو۔
انہوں نے کہا: “آئیے ہم رابطوں میں سرمایہ کاری کریں، نہ صرف سامان کی ترسیل کے لیے، بلکہ انسانوں، خیالات اور خوشحالی کو قریب لانے کے لیے بھی”۔
اس سے قبل، وزیر اعظم نے ترکمانستان کی قیادت کو مستقل غیر جانبداری کے 30 برس مکمل ہونے اور 2025 کو ’’انٹرنیشنل ایئر آف پیس اینڈ ٹرسٹ‘‘ قرار دلوانے کے کامیاب اقدام پر مبارک باد دی۔