
مغربی فرانس کے ساحل کے قریب سمندر میں 7 ہزار سال قدیم دیوار دریافت
پیرس، یورپ ٹوڈے: سائنس دانوں نے مغربی فرانس کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ میں تقریباً سات ہزار سال قدیم ایک طویل دیوار دریافت کی ہے، جسے فرانس میں اب تک کی سب سے اہم زیرِ آب آثارِ قدیمہ کی دریافتوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دیوار تقریباً 400 فٹ طویل ہے اور برِٹنی کے علاقے میں واقع جزیرۂ سین (Île de Sein) کے نزدیک دریافت ہوئی، جہاں اسی دور سے تعلق رکھنے والی ایک درجن کے قریب دیگر انسانی ساختہ ڈھانچے بھی ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ گرینائٹ سے بنی ساختیں 5800 سے 5300 قبل مسیح کے درمیان تعمیر کی گئیں، جب سمندر کی سطح آج کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔ یہ آثار اس وقت سمندر کی سطح سے تقریباً نو میٹر نیچے موجود ہیں۔
یونیورسٹی آف ویسٹرن برِٹنی کے ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر ایوان پائیے نے، جو اس دریافت پر شائع ہونے والی تحقیق کے شریک مصنف ہیں، کہا کہ یہ ایک نہایت اہم دریافت ہے جو زیرِ آب آثارِ قدیمہ کے لیے نئے امکانات پیدا کرتی ہے اور ہمیں قدیم ساحلی معاشروں کی تنظیم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ تحقیق انٹرنیشنل جرنل آف ناٹیکل آرکیالوجی میں شائع ہوئی ہے۔
یہ ساختیں پہلی مرتبہ 2017 میں ریٹائرڈ جیالوجسٹ ایوز فوکے نے سمندری فرش کے لیزر سسٹم سے تیار کردہ نقشوں میں شناخت کیں۔ بعد ازاں 2022 سے 2024 کے درمیان غوطہ خوروں نے اس مقام کا معائنہ کیا اور گرینائٹ سے بنی ان ساختوں کی موجودگی اور غیر معمولی حالت کی تصدیق کی۔ فوکے کے مطابق ماہرین کو اتنے سخت سمندری ماحول میں اس قدر محفوظ آثار کی توقع نہیں تھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈھانچے قدیم زمانے میں مچھلی پکڑنے کے جالوں کے طور پر یا سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح سے تحفظ کے لیے تعمیر کی گئی دیواروں کے طور پر استعمال ہوتے ہوں گے۔ تحقیق کے مطابق یہ تعمیرات اس دور کے لوگوں کی اعلیٰ تکنیکی مہارت اور مضبوط سماجی تنظیم کی عکاسی کرتی ہیں، کیونکہ ان میں کئی ٹن وزنی پتھروں کو نکالنے، منتقل کرنے اور نصب کرنے کی صلاحیت موجود تھی، جو بعد میں تعمیر ہونے والے بریٹن میگالتھک یادگاروں سے مشابہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تکنیکی مہارت خطے میں میگالتھک تعمیرات کے آغاز سے کئی صدیاں قبل موجود تھی۔ محققین کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ زیرِ آب مقام بریٹن خطے کی ڈوبے ہوئے شہروں سے متعلق لوک کہانیوں، خصوصاً افسانوی شہر ’’یس‘‘ (Ys) کی بنیاد ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خلیجِ ڈوارنیز میں واقع تھا۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک منظم معاشرے کی ترقی یافتہ بستیوں کا سمندر میں غرق ہونا اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گیا ہوگا، اور سمندر کی سطح میں تیز اضافے کے بعد ماہی گیری کے ڈھانچوں، حفاظتی تعمیرات اور رہائشی مقامات کا ترک کیا جانا لوگوں پر گہرا اثر چھوڑ گیا ہوگا۔
یہ دریافت اس سے قبل جنوبی فرانس کے ساحل کے قریب سمندر کی گہرائی میں سولہویں صدی کے ایک تجارتی جہاز کی باقیات کی دریافت کے تقریباً چھ ماہ بعد سامنے آئی ہے، جو اس خطے میں اب تک کی سب سے گہری زیرِ آب دریافت سمجھی جاتی ہے۔