
ویتنام کے پہلے ایل این جی پاور پلانٹس کا افتتاح، صاف توانائی کی جانب اہم پیش رفت
ڈونگ نائی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیر اعظم فام منھ چِنھ نے اتوار کے روز صوبہ ڈونگ نائی میں ملک کے پہلے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے چلنے والے بجلی گھروں کا افتتاح کیا، جسے صاف توانائی کی جانب ویت نام کی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
نھون ٹراچ 3 اور نھون ٹراچ 4 کے نام سے قائم یہ دو منصوبے ریاستی توانائی ادارے پیٹرو ویت نام نے 1.4 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے ہیں۔ دونوں پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,624 میگاواٹ ہے اور یہ سالانہ نو ارب کلو واٹ آور سے زائد بجلی پیدا کریں گے۔
یہ منصوبے قومی گرڈ کے استحکام کے لیے لچکدار بنیادی بجلی فراہم کریں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قابلِ تجدید توانائی کا حصہ توانائی کے مجموعی نظام میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، بالخصوص جنوبی ویت نام میں۔ یہ سہولتیں ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں بھی مدد دیں گی، جس کے لیے سالانہ 6,500 سے 8,200 میگاواٹ اضافی صلاحیت درکار ہے۔ اس وقت ملک میں بجلی کا زیادہ سے زیادہ استعمال 54,500 میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ بجلی کی طلب کی شرح کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی سے ڈیڑھ سے دو گنا زیادہ بڑھانا ضروری ہے۔
وزیر اعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاور پلانٹس قومی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور ملک کی تیز اور پائیدار ترقی کی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس منصوبے کو معیار، تحفظ اور ماحولیاتی تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے مشکلات پر قابو پانے کی ایک مثالی مثال قرار دیا۔
یہ پلانٹس جنرل الیکٹرک (جی ای) کے جدید ترین 9HA.02 گیس ٹربائنز سے لیس ہیں، جو 62 سے 64 فیصد تک توانائی کی موثریت فراہم کرتی ہیں اور 50 فیصد تک ہائیڈروجن کے امتزاج کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ مستقبل میں مکمل طور پر ہائیڈروجن پر چلنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کے نتیجے میں کوئلے کے مقابلے میں کاربن اخراج میں 40 فیصد اور تیل کے مقابلے میں 30 فیصد کمی آتی ہے، جو 2050 تک نیٹ زیرو اخراج کے ویت نامی ہدف کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگی۔
منصوبے کو تعمیر کے دوران کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔ مئی 2022 میں کووِڈ-19 وبا کے دوران کام کا آغاز ہوا، جب حکومتی ضمانتیں موجود نہیں تھیں اور عالمی مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر فنڈنگ حاصل کی گئی۔ اس کے علاوہ ایل این جی کی قیمتوں اور طویل المدتی بجلی خریداری معاہدوں سے متعلق ضابطہ جاتی فریم ورک بھی اس وقت مکمل نہیں تھا۔ زمین کے حصول اور آلات کی ترسیل جیسے مسائل نے بھی مشکلات پیدا کیں۔
پیٹرو ویت نام اور مرکزی ٹھیکیدار لیلاما-سام سنگ سی اینڈ ٹی نے شبانہ روز کام کرتے ہوئے منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کیا۔ ای پی سی ٹھیکیدار کے انتخاب کا عمل صرف 11 ماہ میں مکمل ہوا، جو اس نوعیت کے بڑے منصوبے کے لیے انتہائی کم وقت سمجھا جاتا ہے۔ ملکی ادارہ لیلاما نے ای پی سی کام کا تقریباً 40 فیصد حصہ انجام دیا، جو ویت نام میں کسی تھرمل پاور پلانٹ میں مقامی شراکت کی سب سے بلند شرح ہے۔
یہ بجلی گھر بنیادی طور پر جنوبی ویت نام کو توانائی فراہم کریں گے، جو ملک کی معیشت کا مرکز اور ہائی ٹیک غیر ملکی سرمایہ کاری کا اہم ہدف ہے۔ اس منصوبے سے ویت نام میں گیس سے چلنے والی بجلی کی منڈی کی بنیاد پڑے گی اور قومی توانائی ترقیاتی منصوبے کے تحت مزید 13 ایل این جی منصوبوں کے لیے ایک نمونہ فراہم ہوگا۔
پیٹرو ویت نام کے چیئرمین لے مانھ ہُنگ نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی ملک بھر میں ایل این جی پاور مراکز کے قیام کی راہ ہموار کرے گی، تاکہ توانائی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور نیٹ زیرو اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ مضبوط اور جدید توانائی کا نظام تیز رفتار اور پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مکمل تعاون جاری رکھنے، ضوابط کو آسان بنانے اور ایل این جی سپلائی چین میں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔