
رومانیہ اور امریکہ کے درمیان دسویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم
بخارسٹ، یورپ ٹوڈے: بخارسٹ میں 16 دسمبر 2025 کو رومانیہ اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دسویں دور کا انعقاد وزارتِ خارجہ رومانیہ کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور توسیع پذیر اسٹریٹجک شراکت داری کی توثیق کی گئی۔
اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران سلامتی اور دفاعی تعاون، یوکرین میں امن کی حمایت، اور بحیرۂ اسود کے خطے کے استحکام، سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی اجلاس منعقد ہوئے۔ بات چیت میں علاقائی امور، بین الاقوامی اسٹریٹجک مسابقت، اقتصادی اور تحقیقی سلامتی، نیز دفاعی پیداوار میں مشترکہ مواقع پر بھی غور کیا گیا۔
فریقین نے توانائی کی سلامتی، اہم معدنی وسائل، سرحدی سلامتی، ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں، اور آزادیٔ اظہار کے فروغ سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ دونوں ممالک نے اس امر پر زور دیا کہ وسیع البنیاد تعاون مشترکہ سلامتی اور جمہوری استحکام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل تھا، جنہوں نے دونوں ممالک میں نئی انتظامیہ کے تحت امریکہ–رومانیہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید سمت دی۔ ان روابط میں 8 اکتوبر کو واشنگٹن میں رومانیہ کی وزیرِ خارجہ اوانا تویو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان مشاورت، 6 اور 7 نومبر کو ایتھنز میں ٹرانس اٹلانٹک انرجی تعاون کی شراکت داری کا چھٹا وزارتی اجلاس، اور 17 تا 18 نومبر کو بخارسٹ میں ہائی لیول ڈیفنس گروپ کا اجلاس شامل تھا۔
اجلاس کے دوران دوطرفہ دفاعی، توانائی اور سرحدی سلامتی کے تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ امریکا نے دفاعی اخراجات سے متعلق وعدوں کی تکمیل کے لیے رومانیہ کی کوششوں کو سراہا اور بحیرۂ اسود کے خطے میں سلامتی کے فروغ میں اس کے قائدانہ کردار کو تسلیم کیا۔
دونوں ممالک نے اجتماعی دفاع کے بنیادی ستون کے طور پر نیٹو کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور نیٹو کے دائرۂ کار میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اتحادی ممالک کی جانب سے دفاع پر مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا پانچ فیصد خرچ کرنے کے عہد کو عملی جامہ پہنانے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ دفاعی صنعت میں تعاون کے ذریعے مشترکہ سلامتی اور خوشحالی کے فروغ پر زور دیا گیا۔
امریکہ نے علاقائی توانائی کی سلامتی کے فروغ میں رومانیہ کے کلیدی کردار کو سراہا۔ وفود نے دوطرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، جس سے رومانیہ ایک علاقائی توانائی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے اور امریکی کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ فریقین نے قابلِ اعتماد، محفوظ اور کم لاگت توانائی کی فراہمی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جس میں چرناؤدا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ری ایکٹر 3 اور 4 کی تعمیر، جدید اسمال ماڈیولر ری ایکٹر (SMR) ٹیکنالوجی کا نفاذ، اور امریکی کمپنیوں کے اشتراک سے بحیرۂ اسود کے قدرتی گیس کے ذخائر کی ترقی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، روس سے آزاد متنوع قدرتی گیس ذرائع کی فراہمی کے لیے ورٹیکل کوریڈور کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دونوں ممالک نے تعلیمی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ تبادلوں کو دوطرفہ تعلقات کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے انہیں برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکا نے فیوچر لیڈرز ایکسچینج (FLEX) ہائی اسکول پروگرام کے لیے رومانیہ کی مالی معاونت کو آئندہ نسل کے قائدین میں سرمایہ کاری قرار دیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عوامی سطح پر مضبوط روابط بنیادی آزادیوں کے تحفظ، اچھی حکمرانی اور یہود دشمنی جیسے تشویشناک رجحانات کے تدارک میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
سرحدی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو منظم جرائم، انسانی اور منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت، دہشت گردی اور سائبر خطرات کے خلاف جدوجہد میں کلیدی عنصر قرار دیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معلومات کے تبادلے اور سلامتی کے تعاون میں اضافہ شہریوں کے تحفظ اور قانونی سفر میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دسویں دور نے امریکہ–رومانیہ اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اور وسعت کو اجاگر کیا اور علاقائی استحکام، اجتماعی دفاع اور طویل المدتی خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی توثیق کی۔