ویتنام

ویتنام کے ایکسپریس وے نیٹ ورک میں تاریخی پیش رفت، تعمیراتی رفتار نے ریکارڈ قائم کر دیا

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: گزشتہ پانچ برس ویتنام کے ایکسپریس وے نیٹ ورک کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئے ہیں، جہاں ملک رواں سال کے اختتام تک 3,000 کلومیٹر ایکسپریس ویز کا ہدف حاصل کرنے کے قریب ہے اور 2030 تک 5,000 کلومیٹر کے ہدف کی جانب مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے۔

وزارتِ تعمیرات کے مطابق، 2001 سے 2010 کے دوران ویتنام میں صرف 89 کلومیٹر ایکسپریس ویز فعال کی گئیں، جبکہ 2011 سے 2020 کے عرصے میں یہ تعداد 1,163 کلومیٹر تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس، صرف 2021 کے بعد سے اب تک جن ایکسپریس ویز میں سرمایہ کاری کی گئی ہے، ان کی مجموعی لمبائی گزشتہ ایک دہائی کے برابر ہے۔ توقع ہے کہ 2025 کے اختتام تک تقریباً 3,513 کلومیٹر ایکسپریس ویز مکمل ہو کر ٹریفک کے لیے کھول دی جائیں گی۔

اس پیش رفت کا ایک نمایاں سنگِ میل مشرقی شمال–جنوب ایکسپریس وے منصوبہ ہے، جو بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ دونوں سرمایہ کاری مراحل کے تحت اس منصوبے کے تمام 23 ذیلی منصوبے فعال ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کے شمال سے جنوب تک بلا تعطل سفری رابطہ ممکن ہو گیا ہے۔

گزشتہ روز منعقدہ ایک سیمینار بعنوان “3,000 کلومیٹر ایکسپریس ویز سے حاصل ہونے والی رفتار” میں منتظمین، ماہرینِ ٹرانسپورٹ اور کاروباری اداروں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ تعمیر کی رفتار ویتنام کے ٹرانسپورٹ شعبے کی تاریخ میں بے مثال رہی ہے۔ توسیع پاتا ہوا ایکسپریس وے نیٹ ورک نہ صرف ٹریفک دباؤ کم کر رہا ہے اور سفری اوقات مختصر کر رہا ہے بلکہ علاقائی روابط مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ نئی ترقیاتی گنجائش پیدا کر کے معاشی مسابقت میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ وہ انفراسٹرکچر جو ماضی میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا تھا، اب خود ترقی کا محرک بن رہا ہے۔

سیمینار میں حاصل شدہ تجربات، باقی رہنے والی رکاوٹوں اور رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے درکار پالیسی اصلاحات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزارتِ تعمیرات کے تحت اقتصادی و سرمایہ کاری نظم و نسق کے شعبے کے ڈائریکٹر لی کویئت تیئن نے کہا کہ ایک اہم پیش رفت شمال–جنوب ایکسپریس وے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں سرمایہ کاری کے طریقۂ کار کو بیک وقت نافذ کرنے کی اجازت دینا تھا۔ اراضی کے حصول، کان کنی کے لائسنس اور جانچ و ڈیزائن کے مراحل میں خصوصی میکانزم کے ساتھ تیاری کا وقت نمایاں طور پر کم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کے لیے قائم اسٹیٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کی قریبی نگرانی سے مسائل بروقت حل ہوئے اور معیار کے ساتھ رفتار بھی برقرار رہی۔

ٹھیکیداروں کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں نے ملکی اداروں کی صلاحیتوں کو انتہا تک آزمایا۔ فُوانگ تھانہ ٹرانسپورٹیشن انویسٹمنٹ اینڈ کنسٹرکشن جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے فام وان کھوئی نے کہا کہ ایکسپریس وے منصوبوں نے تنظیمی استعداد، مالی قوت اور استقامت کا سخت امتحان لیا۔ دشوار گزار زمینی حالات، پیچیدہ ارضیاتی ساخت اور تعمیراتی مواد کی کمی کے باعث تکنیکی حل میں تبدیلی اور اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے، جبکہ کئی کمپنیوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داری کے تحت منافع پر ڈیڈ لائن کو ترجیح دی۔

تھانگ لونگ کنسٹرکشن کارپوریشن کے نائب جنرل ڈائریکٹر نگوین ہائی ونہ نے کہا کہ سخت ٹائم لائنز کے باعث مالی وسائل کی فراہمی سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مزید مشینری، افرادی قوت اور مواد کی فراہمی کے لیے بھاری سرمایہ درکار ہے، جس کے نتیجے میں بعض اداروں کو کم منافع پر کام کرنا پڑ رہا ہے، تاہم اس دباؤ نے سیکھنے کے عمل اور انتظامی صلاحیت کو بھی تیز کیا ہے۔

ٹرونگ سون کنسٹرکشن کارپوریشن کے آرمی کور 12 سے وابستہ نگوین با دوآن نے تعمیراتی مواد اور افرادی قوت کو فیصلہ کن عوامل قرار دیا اور کہا کہ اگر مواد کی فراہمی بروقت یقینی بنائی جائے تو منصوبے مقررہ وقت سے کئی ماہ پہلے مکمل ہو سکتے ہیں، جبکہ انجینئرز اور ہنر مند کارکنوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

کنسلٹنگ اداروں کو بھی اسی نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ ڈیزائن کنسلٹنگ کارپوریشن کے چیئرمین فام ہوو سون نے کہا کہ تیز رفتار تکمیل کے تقاضوں نے کنسلٹنٹس کو ان منصوبوں کو محض تجارتی سرگرمی کے بجائے قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کم فیس اور محدود حکومتی معاونت کے باوجود اداروں کو معیار اور رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل بروئے کار لانا پڑ رہے ہیں۔

ویتنام ایسوسی ایشن آف روڈ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر انویسٹرز کے چیئرمین، ایسوسی ایٹ پروفیسر ترن چونگ نے کہا کہ 2025 کے اختتام تک 3,000 کلومیٹر کا ہدف حاصل کرنا ویتنام کے انفراسٹرکچر نظام کی بڑھتی ہوئی پختگی کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے رفتار اور معیار دونوں کو ممکن بنایا ہے اور 2030 تک 5,000 کلومیٹر کے ہدف کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

فام وان کھوئی نے مزید کہا کہ آئندہ دور میں منصوبوں کی طلب غیر معمولی ہوگی۔ صرف 19 دسمبر کو ہی 240 سے زائد منصوبوں کا افتتاح یا سنگِ بنیاد رکھا جانا متوقع ہے، جن میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 2.2 کوآڈریلین ویتنامی ڈونگ (83.5 ارب امریکی ڈالر) ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مدت میں کام کا بوجھ گزشتہ دور کے مقابلے میں چار سے پانچ گنا زیادہ ہوگا، جس کے لیے افرادی قوت کی بہتر تربیت اور مقامی سطح پر تعمیراتی مواد کی فراہمی کے مؤثر نظام ناگزیر ہیں۔

شہباز شریف Previous post وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کا افتتاح کر دیا
انڈونیشیا Next post ایکسپو 2025 اوساکا میں انڈونیشیا کی شاندار کارکردگی، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور لاکھوں زائرین متوجہ