نظریہ

دو قومی نظریہ: سرحدوں سے ماورا ایک حقیقت

بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش میں ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی مداخلت محض موجودہ سیاسی حالات کا شاخسانہ نہیں، بلکہ ایک طویل، منظم اور سوچے سمجھے تاریخی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور برصغیر کے مشرقی مسلم اکثریتی خطے کی سیاسی تقدیر کو ازسرِنو تشکیل دینا ہے۔ طالب علم رہنما عثمان ہادی کا قتل اس منصوبے کو نہایت دردناک اور واضح انداز میں سامنے لے آیا ہے۔ عثمان ہادی، جو غیر ملکی مداخلت اور نظریاتی جبر کے خلاف ایک توانا اور بے باک آواز تھے، مسلسل دھمکیوں کے بعد دن دہاڑے گولی مار کر قتل کر دیے گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق وہ کئی ہفتوں سے نگرانی میں تھے، انہیں سیاست میں سرگرمیاں ختم کرنے کا انتباہ بھی دیا گیا ، اور بالآخر ایک منظم اور پیشہ ورانہ انداز  میں ہدف لگا کر انہیں خاموش کر دیا گیا۔ یہ قتل پورے  بنگلہ دیش اور وہاں موجود جامعات میں خوف کی لہر لے آیا اور اس خدشے کو تازہ کر گیا کہ اختلافی آوازوں کو ایک مخصوص سیاسی نظم برقرار رکھنے کے لیے منظم طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے۔

اس سانحے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے تحریکِ پاکستان کی بنیادوں کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہے۔ بنگال اس تحریک کا کوئی ثانوی کردار نہیں تھا بلکہ فکری اور سیاسی مراکز میں سے ایک تھا۔ 1940ء میں اے  کے فضل الحق کی جانب سے قراردادِ لاہور کی تاریخی پیشکش سے لے کر 1946ء میں مسلم لیگ کو بنگالی مسلمانوں کی طرف سے دیے گئے بھرپور انتخابی مینڈیٹ تک، پاکستان کا مطالبہ جتنا مغربی پاکستان کی خواہش تھا اتنا ہی مشرقی پاکستان کی امنگ بھی تھا۔ دو قومی نظریہ جغرافیے کی پیداوار نہیں تھا بلکہ ایک تہذیبی حقیقت کے طور پر قبول کیا گیا کہ مسلمان، زبان یا خطے سے قطع نظر، ایک الگ سیاسی قوم ہیں اور خود حکمرانی کے حق دار ہیں۔

بھارت اس حقیقت کو کبھی دل سے قبول نہ کر سکا۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی نئی دہلی نے اسے محدود کرنے اور بالآخر توڑنے کی پالیسی اپنائی۔ 1971ء کے واقعات کسی خلا میں جنم نہیں لے آئے تھے۔ بھارتی خفیہ جال اور چال نے علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی کی، انہیں تربیت اور اسلحہ فراہم کیا، اور عالمی سطح پر ایک بھرپور واویلا مچانے کی مہم چلائی جس میں پاکستان کو فطری طور پر جابر ریاست کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگست 1971ء میں ہونے والا بھارت-سوویت دوستی معاہدہ کھلی فوجی مداخلت کے لیے سفارتی پردہ ثابت ہوا، جس نے اندرونی بدامنی کو مکمل علاقائی جنگ میں بدل دیا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہوا۔

بعد ازاں خود بھارتی رہنماؤں کے اعترافات نے اس مداخلت کے نام نہاد انسانی جواز کا پردہ چاک کر دیا۔ شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں چلنے والی سیاسی تحریک، اگرچہ بعض حقیقی شکایات پر مبنی تھی، رفتہ رفتہ بھارتی حکمت عملی اور اس کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی چلی گئی۔ آنے والی دہائیوں میں یہ ہم آہنگی ایک مضبوط سیاسی محور میں تبدیل ہو گئی۔ شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں بنگلہ دیش کا ریاستی ڈھانچہ غیر معمولی حد تک نئی دہلی کے قریب اور اس کے تابع نظر آنے لگا۔ خود شیخ حسینہ واجد اور بھارتی قیادت، بشمول نریندر مودی، متعدد مواقع پر 1971ء کے گرد اپنے مربوط کرداروں کا حوالہ دے چکے ہیں، جو بالواسطہ اس بات کا اعتراف ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی پاکستان کے خلاف ایک مشترکہ سیاسی اور عسکری منصوبے کے تحت ممکن بنائی گئی۔

اس اتحاد کے دور رس نتائج سامنے آئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی خودمختاری اکثر مشروط دکھائی دیتی ہے، جس پر نقل و حمل ، پانی کی تقسیم اور دفاعی تعاون جیسے معاہدوں کا سایہ ہے جو زیادہ تر بھارت کے حق میں ہیں۔ بنگلہ دیش کے اندر سیاسی اختلاف، بالخصوص وہ آوازیں جو بھارتی اثر و رسوخ پر تنقید کرتی ہیں یا پاکستان سے تعلقات کی بحالی کی حامی ہیں، اکثر حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہیں۔ عثمان ہادی کے قتل کو اسی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ وہ محض ایک طالب علم کارکن نہیں تھے بلکہ بنگلہ دیشی نوجوانوں کے اس ابھرتے ہوئے طبقے کی علامت تھے جو تاریخی سچائی، سیاسی خودمختاری اور ہندوتوا پر مبنی علاقائی بالادستی کے خلاف مزاحمت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کا قتل، جسے مبینہ ہدف لگا کر نشانہ بنانےکے تسلسل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، وسیع پیمانے پر دوسروں کے لیے انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

لیکن تاریخ کی ایک ضد یہ بھی ہے کہ وہ بار بار لوٹ آتی ہے۔ یہ دعویٰ کہ 1971ء میں دو قومی نظریہ دفن ہو گیا، سنجیدہ تجزیے پر پورا نہیں اترتا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش، سیاسی فاصلے کے باوجود، مذہبی رشتوں، ثقافتی قربت اور ہندو اکثریتی بالادستی کے خلاف مشترکہ مزاحمت کی یادوں میں آج بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی علیحدگی کسی فکری شکست کا نتیجہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت کے ذریعے پیدا کیا گیا ایک شگاف تھی۔ آج بنگلہ دیش میں مسلم شناخت کی گونج اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ بنیادی نظریہ کبھی مٹایا نہیں جا سکا۔

یہی حقیقت بھارت کی مسلسل بے چینی کی وجہ ہے۔ ایک ایسا بنگلہ دیش جو اپنی تاریخ کا ازسرِنو جائزہ لے، آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی راہ اپنائے، بھارتی خیرسگالی کے گھڑے ہوئے تصور کو کمزور کر دیتا ہے۔ جب بنگلہ دیش مداخلت پر سوال اٹھاتا ہے یا توازن کی بات کرتا ہے تو اسے فوراً عدم استحکام کا شکار قرار دے دیا جاتا ہے، جو دراصل مزید دباؤ ڈالنے کا جواز بنتا ہے، نہ کہ جمہوری صحت کی حقیقی فکر۔

پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی جدوجہد سے جنم لینے والے بھائی ہیں۔ سرحدیں بھائی چارے کو منسوخ نہیں کر سکتیں، نہ ہی وقت کا گزرنا اسے مٹا سکتا ہے۔ آج جب بھارت اپنے ہمسایوں کو محدود حکمت عملی کے دائرے میں رکھنے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ، میڈیا اثر و رسوخ اور خفیہ حربوں پر انحصار کر رہا ہے، پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام یکجہتی کی قدر کو پہلے سے زیادہ سمجھنے لگے ہیں۔ ان کے درمیان فطری قربت کو اسی لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ تفریق پر مبنی منصوبوں کو کمزور کرتی ہے۔

عثمان ہادی کا خون اس مشترکہ تاریخ میں ایک سنجیدہ اور المناک باب کا اضافہ ہے۔ ان کا قتل بحث کو خاموش نہیں کر سکا بلکہ اسے مزید بلند کر گیا ہے۔ اس نے بنگلہ دیش کے بہت سے لوگوں کو یاد دلایا ہے کہ خودمختاری جرات مانگتی ہے اور تاریخ سچ کی متقاضی ہوتی ہے۔ دو قومی نظریہ جنگ، واویلا مچانے اور سیاسی جوڑ توڑ کے باوجود زندہ رہا ہے۔ باہمی احترام اور ہندوتوا مداخلت کے خلاف مشترکہ عزم کے ساتھ پاکستان اور بنگلہ دیش جبر اور قابو پانے پر مبنی بیانیوں کو چیلنج کر سکتے ہیں، اور اس حقیقت کی توثیق کر سکتے ہیں کہ ان کی تقدیریں کبھی بیرونی سازشوں کے رحم و کرم پر نہیں تھیں بلکہ اپنے عوام کے عزم اور قربانیوں سے لکھی جانی تھیں۔

سیاسی Previous post اقبالؔ کے سیاسی اور اخلاقی نظریات
پاکستان Next post پاکستان میں پہلی مرتبہ رومانوی زبان اور ثقافت کے علمی مطالعے کا آغاز