سیاسی

اقبالؔ کے سیاسی اور اخلاقی نظریات

اقبال ؔکے سیاسی افکار و نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے حامیوں اور مخالفین نے اس حقیقت کا عموماً خیال نہیں رکھا کہ کسی شخصیت کے سیاسی و اخلاقی نظریات کو اس کے مجموعی نظام فکر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا جو اس شخصیت کی ذات کی گہرائیوں میں جا گزیں ہوتا ہے۔ ذات جو ایک اکائی کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کی ساری جہتیں باہم مربوط ہوتی ہیں۔

اقبال ؔاپنے اخلاقی اور سیاسی نظریات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں مرتب کرتا ہے اور اس کے نظام فکر کی بنیاد میں اسلامی اقدار و نظریات کارفرما ہیں۔ اقبال ؔکے نزدیک اسلامی ریاست کی پہلی بنیاد توحید کا تصور ہے ، ریاست کی شکل میں اسلام اصول توحید کے عملی اظہار کی جستجو کرتا ہے ان کے الفاظ ہیں۔

‘‘یہ تاجوں سے نہیں بلکہ خدا سے وفاداری کا مطالبہ کرتا ہے اور چونکہ خدا تمام حیات کی حتمی روحانی بنیاد فراہم کرتا ہے اس لئے خدا سے وفاداری اصل میں انسان کی اپنی مثالی فطرت سے وفاداری کے مترادف ہے’’۔(1)
چنانچہ اقبال ؔ ریاست پر ستی کی تمام اقسام کی مخالفت کرتا ہے اور ریاست کے اس تصور کی حمایت کرتا ہے جس میں ریاست کا مقصد یہ ہے کہ وہ انسانی انفرادیت کی مکمل نشوونما کے لئے سازگار حالات فراہم کرے۔ وہ اسلام کی اس اخلاقی اور سیاسی قدر کا بھی تذکرہ کرتے ہیں کہ یہ جذباتی اتحاد کے لئے فرد کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور انسانی اتحاد کی بنیاد کے طور پر خونی رشتوں کے کردار کو نہیں مانتا۔ اسی بات کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے ،کہ اسلام کسی ایسی سیاسی تنظیم کو قبول نہیں کرتا جس کی بنیاد علاقائی وطن پرستی ہو۔ وطن پرستی کے اسی تصور کو وہ ان الفاظ میں مطعون کرتا ہے۔

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیراہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدہ ٔ تہذیب ِ نوی ہے
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بُت کو ملا دے

یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر اسلامی ریاست کا مقصد توحید کے اُصول کا نفاذ ہے تو پھر کسی ایسے تصور کو کیونکر قبول کیا جا سکتا ہے جو انسانوں میں تفریق اور امتیاز پیدا کرے۔ چنانچہ ہم یہ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اقبالؔ کے سیاسی اور اخلاقی افکار میں دو نہایت اہم عناصر ہیں۔ ایک تو اس کا فرد کی اہمیت پر ایمان اور دوسرا اس کی ہر طرح کی وطن پرستی کی مخالفت۔ کیونکہ یہ دونوں باتیں عین اسلامی ہیں اور ان دونوں کا مشترکہ مآخذ توحیدّ کا تصور ہے کیونکہ توحید کا تصور خدا سے ہماری وفاداری ،خدا کے قوانین جیسا کہ ان کا پیغمبر اسلام پر نزول ہوا، سے وفاداری کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہماری ساری دوسری وفاداریوں کو اس بنیادی وفاداری کے تابع کر دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہ مختلف انسانی گروہوں کے درمیان موجود تمام مصنوعی تقسیم کے خلاف ہے خواہ اس کی بنیاد نسل یا سماجی اور اقتصادی حیثیت ہو یا وہ جغرافیائی وجوہات پر مبنی ہو۔

اقبال ؔ انسانی انفرادیت کے بڑے قائل تھے۔ انہوں نے اسلامی قانون کے ابتدائی مفکرین پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے تنظیم پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے اس وجہ سے کہ کسی حد تک تنظیم زوال کی قوتوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے لیکن ہمارے قدمااور ہمارے جدید علماء بھی اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے کہ کسی بھی گروہ کی تقدیر کا انحصار تنظیم سے زیادہ اس کے افراد کی انفرادی قوت اور اہمیت پر ہوتا ہے ، بہت زیادہ منظم معاشرے میں فرد کی زندگی بالکل ہی ختم کر دی جاتی ہے ۔ وہ اپنے گرد موجود ساری دنیا تو حاصل کر لیتا ہے ، مگر اپنی روح کھو دیتا ہے۔ اقبالؔ کے فلسفے میں انفرادیت کی اتنی اہمیت ہے کہ وہ خدا کو بھی ، منفرد ، انفرادی اور بے مثل کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ خدا کا یہ تصور کہ وہ ایک وسیع غیر واضح اور پھیلا ہوا عنصر ہے اقبال ؔ کو متاثر نہیں کرتا۔ جس سے اس انتہائی یا حتمی خودی کی انفرادیت کا اظہار ہوتا ہے۔ فرد کی اہمیت کے بارے میں اقبالؔ کے نظریات کو جاننے کے لئے اسرار خودی پر نظر ڈالنان کافی ہے۔ اسرار ِخودی کے تعارف میں ہی اقبالؔ قارئین کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ خودی کا عام طور پر مستعمل مطلب یعنی غرور یا تکّبر نہ لیں بلکہ اس کا مطلب تو عرفان ِذات یا تعّینِ ذات ہے۔ اس کے مطالب پر زیادہ روشنی وہ ‘ساقی نامہ’ میں ڈالتے ہیں جہاں وہ کہتے ہیں کہ وہ شخص جو اپنی خودی کی حفاظت کرتا ہے اس کے لئے وہ نان جویں زہر کی حیثیت رکھتا ہے جو اسے خُودی سے محروم کرے وہی نانِ جویں اس کے لئے بہتر ہے جو اسے سر بلند رکھے۔ اسی طرح صرف ایک سجدہ اس کے لئے جائز ہے جو اسے باقی تما م سجدوں سے نجات عطا کر دے۔ خودی کو وہ ایک شیر کہتے ہیں جس کا شکار ساری دنیا اور زمین و آسمان ہیں۔ اقبالؔ خودی کے استحکام کی تعلیم دیتے ہیں اور اسی کو وجۂ خیر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ خودی سے متصف شخصیات ہی اسلام کے سیاسی اور اخلاقی نظام کو قائم کر سکتی ہیں او ر اس کے استحکام کی ذمہ دارہیں۔ نتیجتاً اسلام کے اخلاقی اور سماجی نظام کی بدولت ہی ایسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں جو جہاں بین و جہاں دارا’ جہاں بان و جہاں آراہوں۔

اقبالؔ کا تّصور ِفرد (انفرادی خودی) اس کے جماعت کے تّصور سے منسلک ہے۔
‘‘جماعت کی زندگی زیادہ دیرپا ہے جبکہ افراد پیدا ہوتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں’’

صرف جماعت کے ذریعے سے ہی ایک فرد دوسرے فرد کے ساتھ تعلق پیدا کر سکتا ہے اور اس طرح کا تعلق ہی اس کی انفرادیت کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پروفیسر آربری اسرار خودی( انگریزی) کے دیباچے میں لکھتے ہیں۔

‘‘وہ صرف فرد اور اس کے احساس ذات ہی میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے (بلکہ) وہ ایک مثالی معاشرے یا جماعت کے ارتقاء میں (جیسا کہ وہ اسے کہنا پسند کرتے تھے) بھی اتنی ہی دلچسپی رکھتے تھے ۔ صرف اس جماعت کے ایک رکن کی حیثیت ہی سے فرد ’ مفاہمت اور ٹکراؤ کے جڑواں اصولوں کے ذریعے سے مثالی اور مکمل طور پر اپنا اظہار کر سکتا ہے صرف اپنی ذات کا اثبات کرنے والے افراد کے باہمی تعلق سے ہی جماعت وجود میں آسکتی ہے اور اپنی تکمیل کر سکتی ہے۔ چنانچہ یوں اقبالؔ فرد کی آزادی کی حدود مقرر کر کے ایک طرف حد سے بڑھی ہوئی آزادی (آوارگی) سے بچاتے ہیں۔ اسے ایک یکسانیت اور مفاہمت پر مبنی جماعت کارکن بنا کر اور دوسری جانب جماعت کی اتھارٹی کی حدود کا تعین کر کے آمریت سے بھی بچا لیتے ہیں، اسے ایک چیلنج کی صورت دے کر بجائے اس کے کہ وہ فرد کے احساس ذات (کے حصول) کے راستے میں ایک ناقابل عبور رکاوٹ بن جائے۔’’

رموز بے خودی میں اقبالؔ نے ایک حدیث نبوی ﷺنقل کی ہے جس کے مطابق شیطان ہمیشہ خود کو مسلمانوں کے اجتماع سے دور رکھتا ہے ۔ جماعت سے فرد عزت و تکریم حاصل کرتا ہے جبکہ جماعت افراد کے اتحاد سے تنظیم حاصل کرتی ہے۔ جماعت ماضی اور مستقبل کو باہم منسلک کرتی ہے اور ابدیت کی طرح اس کی زندگی بھی غیر محدود ہے۔

‘‘اقبال ؔ کے نزدیک فرد اور جماعت دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ فرد کی زندگی میں ترتیب و تنظیم معاشرہ پیدا کرتا ہے اور فرد کے اعلیٰ تصورات اور ارادے کے بغیر معاشرہ جمود کا شکار ہو جائے گا’’۔

چنانچہ اقبالؔ کا نظام فکر جس کی بنیاد خالصتاً اسلامی ہے۔ اسلام کے اخلاقی اور سیاسی نظام کے خدوخال کو متعین کرتا ہے ۔ اسلام کے سیاسی نظام کی برتری اقبالؔ کے نزدیک مسلم ہے کیونکہ اس میں نہ تو طبقات کی اجارہ داریاں ہیں نہ جماعت کی آمریت اسی طرح فرد کی آمریت کی گنجائش بھی نہیں ہے نہ تو اس میں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہوسکتا ہے نہ نجی جائیداد کے حق کو مجروح کیا گیا ہے۔ اقبال ؔ کے تصور ملت پر مبنی ریاست میں رنگ و نسل اور جغرافیے کے جھگڑے ہیں نہ لسانی مناقشات ہیں۔ علامہ اقبالؔ نے مولانا حسین احمد مدنی کے اعتراضات کے جواب میں ایک بصیرت افروز مقالہ تحریر فرمایا تھا جو ‘‘ جغرافیائی حدود اور مسلمان’’ کے عنوان سے روزنامہ احسان لاہور میں ۹ مارچ ۱۹۳۸ء کو شائع ہوا۔ یہ مقالہ ان کی زندگی کے آخری دور میں تحریر کیا گیا یوں یہ ایک طرح سے اس موضوع پر ان کی حتمی رائے کی حیثیت رکھتا ہے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے سیاسی و اخلاقی نظام کے بارے میں جو آراء حضرت علامہ نے اپنی تحریروں کے ابتدائی دور (قومی زندگی، ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر و غیرہ) میں قائم کیں۔ ان کا تسلسل دور آخر تک قائم رہا۔ یوں تو یہ سارا مقالہ اس قابل ہے کہ اسے نقل کیا جائے مگر ہم اس کے صرف ایک اقتباس پر اکتفا کرتے ہیں جس سے اسلام کے سیاسی نظام کے بارے میں بصیرت افروز رہنمائی ملتی ہے۔

‘‘انسان کی تاریخ پر نظر ڈالو۔ ایک لامتناہی سلسلہ باہم آویز شوں کا خوں ریزیوں کا اور خانہ جنگیوں کا ۔ کیا ان حالات میں عالم بشری میں ایک ایسی امت قائم ہو سکتی ہے۔ جس کی اجتماعی زندگی امن اور سلامتی پر فوکس ہو۔ قرآن کا جواب ہے کہ ہاں ہو سکتی ہے بشرطیکہ توحید الٰہی کو انسانی فکر و عمل میں حسب منشاالٰہی مشہور کر نا انسان کا نصب العین قرار پائے۔ ایسے نصب العین کی تلاش اور اس کا قیام سیاسی تدبیر کا کرشمہ نہ سمجھئے بلکہ یہ رحمت اللعالمین کی ایک شان ہے کہ اقوام بشری کو ان کے تمام خود ساختہ تفوقوں اور فضیلتوں سے پاک کر کے ایک ایسی امت کی تخلیق کی جائے جس کو امتہ مسلمتہ لک کہہ سکیں اور اس کے فکر و عمل پر شھداء علی الناس کا خدائی ارشاد صادق آسکے’’۔

(1) Re-Construction of Religious thought in Islam, Iqbal Ph S.H.Muhammad Ashraf 1962 (P-47)
(2) Re-Construction (P-151)
(3) اسرار و رموز’ اقبالؔ ، لاہور 1948، صفحہ 98۔
(4) The Secrets of Self Iqbal tr R.A. Nicholson Lahore 1960 See intruduction by Prof. Alury (P-XXXVII)
(5) Concept of Muslim Culture in Iqbal Mazheruddin Siddiqi Islamia Research Institure Islamabad 1970 (P-76)
(6) مضامین اقبالؔ ، مرتبہ غلام دستگیر رشید ناشر تصدق حسین تاج مالک احمد یہ پریس حیدر آباد (دکن) 1914ء صفحہ 194۔

شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے نجی شعبے کی ورکنگ گروپ کی میٹنگ کی صدارت کی
نظریہ Next post دو قومی نظریہ: سرحدوں سے ماورا ایک حقیقت