
وزیرِاعظم فام منھ چِنھ اوورسیز ویتنامی برادری کے حقوق و شمولیت کے فروغ پر زور
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیرِاعظم فام منھ چِنھ نے جمعرات کے روز بیرونِ ملک مقیم ویتنامی شہریوں (اوورسیز ویتنامیز) سے متعلق ادارہ جاتی ڈھانچے، پالیسیوں اور قوانین میں مسلسل بہتری لانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ انہیں ملکی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی میں بھرپور شرکت کے لیے مزید سازگار حالات فراہم کیے جا سکیں اور ان کے جائز حقوق، مفادات اور خواہشات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وہ بیرونِ ملک ویتنامی امور سے متعلق قرارداد نمبر 36-NQ/TW اور اس شعبے میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹ بیورو اور سیکرٹریٹ کی رہنما دستاویزات پر عملدرآمد کے جائزے کے لیے منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جو آن لائن طور پر بیرونِ ملک ویتنام کے 98 سفارتی مشنز سے منسلک تھی۔ وزیرِاعظم نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیرونِ ملک مقیم ویتنامی، ویتنامی قوم کا ناقابلِ تقسیم حصہ اور قومی طاقت کا ایک اہم سرچشمہ ہیں۔
وزیرِاعظم فام منھ چِنھ نے کہا کہ قرارداد نمبر 36-NQ/TW پر گزشتہ 20 برس سے زائد عرصے تک عملدرآمد کے دوران پارٹی اور ریاست نے اوورسیز ویتنامی برادری پر بڑھتی ہوئی توجہ دی ہے اور ان کی ترقی کے لیے زیادہ سازگار حالات پیدا کیے ہیں، جس کے نتیجے میں وطن کے عوام، پارٹی اور ریاست کے ساتھ بیرونِ ملک ویتنامی ہم وطنوں کے تعلقات مزید مضبوط، عملی اور مؤثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس قرارداد نے ایک مضبوط سیاسی بنیاد اور قانونی فریم ورک فراہم کیا ہے، جس کی بدولت بیرونِ ملک مقیم ویتنامی نہ صرف اپنے میزبان ممالک میں ترقی اور انضمام کر سکے ہیں بلکہ مادرِ وطن سے قریبی روابط برقرار رکھتے ہوئے اس کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے جائز حقوق اور مفادات کے بہتر تحفظ کو بھی یقینی بنایا گیا ہے اور پائیدار قومی ترقی میں ان کی شمولیت کے لیے حالات سازگار بنائے گئے ہیں۔
اہم کامیابیوں کا جائزہ لیتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ اوورسیز ویتنامی برادری کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ برادری مسلسل مستحکم ہو رہی ہے، جہاں اس وقت تقریباً 65 لاکھ ویتنامی شہری دنیا کے 130 سے زائد ممالک اور خطوں میں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق اس قرارداد نے فکری اور علمی وسائل کو متحرک کرنے میں مدد دی ہے اور صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت کے تصور سے نکل کر طویل المدتی قومی ترقی کو ترجیح دینے کی سوچ کو فروغ دیا ہے، جس سے اوورسیز ویتنامی کے لیے قومی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
وزیرِاعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اوورسیز ویتنامی امور پر پارٹی کی جامع، براہِ راست اور فیصلہ کن قیادت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، جبکہ پارٹی کی اسٹریٹجک قراردادوں پر بھرپور اور مربوط انداز میں عملدرآمد کیا جانا چاہیے۔ اس عمل میں تمام سطحوں پر حکام کی قریبی نگرانی و انتظام، قانون ساز ادارے کی شمولیت اور عوام، بالخصوص بیرونِ ملک مقیم ویتنامیوں کی فعال شرکت کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نئے حالات کے تناظر میں اوورسیز ویتنامی امور میں تخلیقی اور مؤثر طریقوں سے مسلسل جدت لانا ضروری ہے، جدید ڈیجیٹل رابطہ چینلز کو فروغ دیا جائے تاکہ انہیں وطن سے جوڑا جا سکے، ویتنامی دانشوروں اور ماہرین کو راغب کرنے کے لیے نہایت سازگار کام کا ماحول اور مراعاتی پالیسیاں متعارف کرائی جائیں، اور سرمایہ کاری کے فروغ میں ان کے رابطہ کار کردار کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
وزیرِاعظم فام منھ چِنھ نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ شہریوں کے تحفظ کے اقدامات کو مؤثر انداز میں جاری رکھیں، بیرونِ ملک ویتنامی برادریوں کے جائز حقوق اور مفادات کا دفاع کریں، بالخصوص مشکل علاقوں، تنازعات اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں میں۔ اس کے ساتھ ساتھ قانونی معاونت کو مضبوط بنانے، ویتنامی اور میزبان ممالک کے قوانین سے آگاہی فراہم کرنے، معلوماتی چینلز، سپورٹ مراکز اور بیرونِ ملک کام کرنے والے ویتنامی کارکنوں کے لیے معاونتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ اوورسیز ویتنامی برادری کو پارٹی اور ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا، اور ان مقامات پر جہاں بعض ویتنامی شہری ویتنامی یا میزبان ممالک کے قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، ان خلاف ورزیوں کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔