
ویتنام کی سیمی کنڈکٹر صنعت کو ماہر افرادی قوت کی قلت کا سامنا، 2030 تک 50 ہزار ماہرین کی ضرورت
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سیمی کنڈکٹر صنعت کو ماہر افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی قلت کا سامنا ہے، جہاں اس وقت ملک بھر میں صرف تقریباً 15 ہزار ماہرین کام کر رہے ہیں، جبکہ 2030 تک کم از کم 50 ہزار ماہرین کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس خلا کو بروقت پُر نہ کیا گیا تو لیبر کی کمی صنعت کی رفتار کو سست کر سکتی ہے۔
سیمی کنڈکٹر کے عالمی اداروں کے لیے ویتنام کی کشش میں مضبوط ٹیلنٹ پول ایک فیصلہ کن عنصر سمجھا جاتا ہے۔ سرمایہ کار سیاسی استحکام، سازگار سرمایہ کاری پالیسیوں اور خاص طور پر تکنیکی صلاحیت رکھنے والے، تیزی سے سیکھنے والے نوجوان انجینئرز کو ویتنام کی بڑی طاقت قرار دیتے ہیں۔
اسی رائے کا اظہار مارویل ویتنام کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر لے کوانگ ڈام نے بھی کیا، جنہوں نے کہا کہ ویتنام کے نوجوان انجینئرز کو ریاضی اور منطقی سوچ میں مضبوط بنیاد حاصل ہے، جو اس صنعت کے لیے ایک اہم فائدہ ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تربیت کے معیار میں نمایاں بہتری نہ لائی گئی تو یہ برتری بتدریج کمزور ہو سکتی ہے، اور افرادی قوت کے بحران کی ابتدائی علامات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
قومی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ڈویلپمنٹ کے مطابق، ویتنام میں سیمی کنڈکٹر اور ہائی ٹیک شعبے میں تقریباً 170 براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے منصوبے موجود ہیں، جن میں مجموعی طور پر 11.6 ارب امریکی ڈالر کے قریب سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ بڑے سرمایہ کاروں میں انٹیل (4.1 ارب ڈالر)، ایمکور (1.6 ارب ڈالر) اور ہانا مائیکرون (673 ملین ڈالر) شامل ہیں۔
موجودہ اندازوں کے مطابق تقریباً 7 ہزار انجینئرز انٹیگریٹڈ سرکٹ (IC) ڈیزائن میں، مزید 7 سے 8 ہزار پیکیجنگ، ٹیسٹنگ، مواد اور سیمی کنڈکٹر آلات کے شعبوں میں، جبکہ تقریباً 10 ہزار ٹیکنیشنز پیکیجنگ، ٹیسٹنگ اور مواد کی تیاری میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نیشنل انوویشن نیٹ ورک کے ذریعے منسلک 100 سے زائد اوورسیز ویتنامی ماہرین کو شامل کرتے ہوئے، مجموعی افرادی قوت تقریباً 15 ہزار بنتی ہے۔
سی ٹی سیمی کنڈکٹر کے چیف آپریٹنگ آفیسر وان اظمی بن وان حسین کے مطابق، اگرچہ ویتنام خود کو ابھرتے ہوئے سیمی کنڈکٹر حب کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل کا مضبوط ذخیرہ تیار کرنا ناگزیر ہے۔
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ “Forging Vietnam’s Semiconductor Future: Talent and Innovation Leading the Way” میں کہا گیا ہے کہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری سے نہ صرف سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ویتنام کی خود انحصاری بڑھے گی بلکہ معیشت بھر میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جن میں ہزاروں اعلیٰ تنخواہ والی ملازمتوں کا قیام اور دیگر ہائی ٹیک شعبوں کی ترقی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بڑی اور زیادہ ہنرمند افرادی قوت مقامی کمپنیوں کو ویلیو چین میں آگے بڑھنے کے قابل بنائے گی اور اعلیٰ معیار کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرے گی، جس سے ترقی کا ایک مثبت چکر جنم لے گا۔
عالمی بینک نے کہا ہے کہ 2035 تک ویتنام کو ایک عالمی سیمی کنڈکٹر ٹیلنٹ حب کے طور پر پہچانا جانا چاہیے، جہاں خود کفیل تربیتی نظام، مضبوط مقامی چِپ ڈیزائن کمپنیاں اور نئی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
یہ وژن حکومت کے اس انسانی وسائل ترقیاتی پروگرام سے ہم آہنگ ہے جو ستمبر 2024 میں سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے 2030 تک اور طویل المدتی طور پر 2050 تک جاری کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت کم از کم 50 ہزار گریجویٹ یا اس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ کارکنوں کی تربیت، چار قومی سیمی کنڈکٹر لیبارٹریوں اور 18 ادارہ جاتی لیبارٹریوں کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نیشنل انوویشن سینٹر کے نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر وو ژوان ہوائی کے مطابق، مشترکہ استعمال کی یہ لیبارٹریاں ہنوئی، ہو چی منہ سٹی، دا نانگ اور نیشنل انوویشن سینٹر میں قائم کی جائیں گی، جبکہ عملی نفاذ 2026 سے متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں کم از کم 35 ہزار ہنرمند کارکنوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے حکومت، جامعات اور صنعت کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہوگا، تاکہ تربیتی پروگرام صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ رہیں اور عالمی رجحانات کے مطابق بروقت تبدیلیاں کی جا سکیں۔
انٹیل ویتنام کے سائٹ جنرل مینیجر کینتھ تسے نے زور دیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) پروگرامز میں بنیادی اور جدید علم کے ساتھ عملی تربیت کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوسری جانب، ہو چی منہ سٹی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فام تن تھی کے مطابق، ویتنام کو پوسٹ گریجویٹ تربیت کو ترجیح دینی چاہیے، جس کے تحت ہر سال کم از کم 100 نمایاں انجینئرز اور 25 ممتاز ماسٹرز اور پی ایچ ڈی طلبہ تیار کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق، تربیت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے خصوصی لیبارٹریوں میں سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس شعبے کا ایک بڑا مسئلہ مکمل مہارت رکھنے والے سیمی کنڈکٹر انجینئرز کی کمی ہے، جو چِپ ڈیزائن کے ابتدائی مراحل سے لے کر تجارتی سطح تک تمام مراحل مکمل کر سکیں۔ اس وقت زیادہ تر ویتنامی انجینئرز صرف ایک مرحلے، بالخصوص بیک اینڈ ڈیزائن، تک محدود ہیں۔
سابق ٹی ایس ایم سی آر اینڈ ڈی ڈائریکٹر پروفیسر کونراڈ ینگ نے کہا کہ ویتنام کی ٹیلنٹ حکمتِ عملی کو صرف آئی سی ڈیزائن تک محدود نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ سیمی کنڈکٹر صنعت میں ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ، ٹیسٹنگ، مارکیٹنگ، آپریشنز، قانونی خدمات اور انسانی وسائل سمیت درجنوں کردار شامل ہیں۔ ان کے مطابق، افرادی قوت کی کمی پر قابو پانے کے لیے عملی انجینئرنگ سوچ کے ساتھ متنوع مہارتوں کا فروغ ناگزیر ہے۔