
انڈونیشیا کے چاول کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابووو نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ ملک کے چاول کے سرکاری ذخائر تین ملین ٹن سے تجاوز کر گئے ہیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدار سابق صدر سوہارتو کے دور میں غذائی خودکفالت کے زمانے کے ذخائر سے بھی زیادہ ہے۔
مغربی جاوا کے علاقے ہمبالانگ میں کابینہ کے ریٹریٹ اور سال کے آغاز پر بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے صدر پرابووو نے بتایا کہ ریاستی لاجسٹکس ایجنسی بولوگ کے زیرِ انتظام چاول کے ذخائر اب تقریباً دو ملین ٹن کے سابقہ ریکارڈ سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں۔
صدر پرابووو نے کہا،
“مجھے فخر ہے کہ آج سرکاری گوداموں میں موجود ہمارے چاول کے ذخائر جمہوریہ انڈونیشیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں، حتیٰ کہ صدر سوہارتو کے دور سے بھی زیادہ۔”
انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے غذائی خودکفالت کے حصول کے لیے چار سالہ ہدف مقرر کیا تھا، تاہم یہ مقصد ان کی صدارت کے صرف ایک سال بعد، یعنی 2025 کے اختتام تک حاصل کر لیا گیا۔
صدر نے کابینہ کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا،
“میرا ماننا ہے کہ یہ آپ سب کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔”
اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک حقیقی معنوں میں خودمختار نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے عوام کے لیے غذائی تحفظ کی ضمانت نہ دے سکے۔
عالمی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر پرابووو نے کہا کہ ماضی میں انڈونیشیا کو چاول کے لیے تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور ویتنام پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جبکہ جغرافیائی عدم استحکام سپلائی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انڈونیشیا چاول میں خودکفیل نہ ہو تو جنگوں اور تنازعات سے بھرپور دنیا میں ملک کے پاس صرف تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور ویتنام ہی چاول کے ذرائع رہ جاتے ہیں۔
صدر نے کہا،
“اب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جنگ میں مصروف ہیں۔ لڑائی کے بعد مذاکرات ہوتے ہیں، ہتھیار رکھے جاتے ہیں، امن کا اعلان ہوتا ہے اور پھر تنازع دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔”
صدر پرابووو نے مزید کہا کہ انڈونیشیا کی غذائی خودکفالت کا دائرہ صرف چاول تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں مکئی، کساوا جیسے دیگر کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین کے ذرائع بھی شامل ہونے چاہییں۔