
انڈونیشیا اور پاکستان کا اقتصادی و سماجی تعاون بڑھانے پر اتفاق، تجارتی معاہدے کو جامع شراکت داری میں اپ گریڈ کرنے کی کوشش
کراچی، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا اور پاکستان اقتصادی اور سماجی تعاون کو وسعت دینے کے لیے کوشاں ہیں، جس کے تحت جکارتہ موجودہ تجارتی معاہدے کو ایک زیادہ جامع شراکت داری میں تبدیل کرنے پر زور دے رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے، خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کیا جا سکے۔
انڈونیشیا کی نائب وزیرِ تجارت دیاہ رورو اِستی نے ہفتے کے روز کراچی میں پاکستان کی فرسٹ لیڈی آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اتوار کو جاری ایک بیان میں دیاہ رورو اِستی نے کہا کہ انڈونیشیا امید رکھتا ہے کہ 2027 تک انڈونیشیا۔پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے (IP-PTA) کو ایک جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) میں تبدیل کر دیا جائے گا، جو طویل المدتی تعاون کے لیے مضبوط فریم ورک فراہم کرے گا۔
انہوں نے بلاول ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران کہا،
“IP-PTA سے CEPA کی جانب تعاون کی اپ گریڈیشن سے کاروباری حلقوں کو زیادہ یقین دہانی حاصل ہو گی اور انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔”
مذاکرات میں خواتین کو بااختیار بنانے، موسمیاتی لچک، سماجی بہبود اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
نائب وزیرِ تجارت نے کہا کہ انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات دوستی، یکجہتی اور جامع و پائیدار ترقی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں، جو قریبی تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی بھی گفتگو کا اہم موضوع رہی، جہاں دونوں فریقوں نے شدید موسمی حالات کو ایک مشترکہ عالمی چیلنج قرار دیا جس کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور بہترین تجربات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔ دیاہ رورو اِستی نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد سندھ میں بڑے پیمانے پر موسمیاتی لچک رکھنے والے رہائشی منصوبوں کی ترقی کے تجربات سے سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
انہوں نے خواتین کو گھر کی ملکیت دینے والی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے انہیں ایک ترقی پسند قدم قرار دیا جو خواتین کے معاشی اور سماجی استحکام کے لیے انڈونیشیا کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہے۔
نائب وزیر نے خوردنی تیل کی پیداوار، سرمایہ کاری، غذائی تحفظ اور علاقائی ویلیو چینز کی ترقی جیسے شعبوں میں اقتصادی تعاون کے مزید امکانات کی بھی نشاندہی کی۔
اس موقع پر فرسٹ لیڈی آصفہ بھٹو زرداری نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے حالیہ دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دوطرفہ تعلقات کے استحکام کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا۔
انہوں نے انڈونیشیا کے “فری نیوٹریشنز میلز پروگرام” کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان بھی خواتین اور بچوں کی معاونت کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سماجی بہبود کے اقدامات کے ذریعے اسی نوعیت کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔