رومانیہ

امریکی محکمہ خارجہ نے رومانیہ اور مشرقی یورپ کو دنیا کے سب سے محفوظ سیاحتی مقامات میں شامل قرار دے دیا

بخارسٹ، یورپ ٹوڈے: امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی تازہ ترین سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے رومانیہ اور مشرقی یورپ کو دنیا کے محفوظ ترین سیاحتی خطوں میں شامل کر دیا ہے۔ رومانیہ کی خبر رساں ویب سائٹ کے مطابق، امریکی ادارے نے رومانیہ کو بدستور “لیول 1” کیٹیگری میں رکھا ہے، جو کم ترین خطرے کی سطح کو ظاہر کرتی ہے، جہاں سیاحوں کو صرف معمول کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یورپ میں لیول 1 کیٹیگری میں شامل دیگر ممالک میں بلغاریہ، پولینڈ، جمہوریہ چیک، ہنگری، سلوواکیہ، سلووینیا، ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، آئس لینڈ، ناروے، فن لینڈ، کروشیا، یونان، مونٹی نیگرو، شمالی مقدونیہ، البانیہ، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، پرتگال، آئرلینڈ، لکسمبرگ، اینڈورا، موناکو، سان مارینو اور مالٹا شامل ہیں۔

اس کے برعکس، یورپ کے روایتی اور مقبول سیاحتی ممالک جیسے فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین کو مسلسل دہشت گردی کے خطرات کے باعث “لیول 2” میں رکھا گیا ہے، جہاں سیاحوں کو اضافی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی یورپ کے گنجان آباد شہری مراکز اور مشہور سیاحتی مقامات انتہاپسند حملوں کے لیے پرکشش اہداف بنے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں رومانیہ، بالٹک ریاستیں اور پولینڈ کو “کم سے کم اضافی خطرات” والے مقامات قرار دیا گیا ہے، جہاں عمومی چوکسی کافی سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹ میں خطے میں واحد خصوصی انتباہ کروشیا کے لیے جاری کیا گیا ہے، جہاں دور دراز علاقوں میں بارودی سرنگوں کے خطرات موجود ہیں۔ جبکہ رومانیہ اور بلغاریہ میں بنیادی خدشات معمولی جرائم، خصوصاً جیب تراشی، تک محدود ہیں۔

سیکیورٹی کے علاوہ، رومانیہ سفری اخراجات کے لحاظ سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کلوج-ناپوکا 2026 کے لیے یورپ کے کم خرچ ترین سیاحتی شہروں میں پانچویں نمبر پر ہے، جبکہ دارالحکومت بخارسٹ آٹھویں نمبر پر ہے، جہاں ثقافتی کشش اور کم قیمتوں کا امتزاج سیاحوں کے لیے پرکشش ہے۔ بخارسٹ اس حوالے سے صوفیہ کے ساتھ براہِ راست مقابلے میں ہے، جسے خطے کا سب سے سستا دارالحکومت تصور کیا جاتا ہے۔

ترکمانستان Previous post ترکمانستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال
علییف Next post آزاد علاقے میں دو بڑے ذخائر کی تعمیر کا آغاز 2026 میں متوقع، صدر الہام علییف