ویتنام

ویتنام کی معیشت عالمی سطح پر روشن مثال اور مستحکم شراکت دار کے طور پر ابھری

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: بین الاقوامی تنظیموں، معاشی تجزیہ کاروں اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے ویتنام کی مضبوط معاشی کارکردگی کو عالمی ترقی میں ایک نمایاں روشن پہلو قرار دیتے ہوئے عالمی سپلائی چینز، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی تعاون میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا ہے۔

عالمی سطح پر غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کے ماحول کے باوجود ویتنام نے 2025 میں نمایاں معاشی کامیابیاں حاصل کیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام اور حکومت کی قیادت میں اختیار کی گئی لچکدار اور فعال پالیسیوں کے نتیجے میں تمام 15 اہم سماجی و معاشی اہداف پورے یا ان سے تجاوز کیے گئے، جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 8.02 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ویتنام کو سست روی کا شکار عالمی معیشت میں ایک “روشن پہلو” قرار دیا، جبکہ نکئی ایشیا کے مطابق یہ اعداد و شمار عالمی تجارتی بے یقینی کے باوجود ویتنامی معیشت کی مضبوط مزاحمت کو ظاہر کرتے ہیں۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی نشاندہی کی کہ ویتنام ان چند ترقی پذیر معیشتوں میں شامل ہے جو محتاط معاشی نظم و نسق، وسیع داخلی منڈی اور بہتر ہوتی پیداواری صلاحیت کے باعث تیزی سے بحالی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ویتنام کو دیگر ممالک سے ممتاز بنانے والا عنصر صرف ترقی کی رفتار نہیں بلکہ اس کا معیار بھی ہے۔ ملکی معیشت روایتی زراعت سے نکل کر صنعت، خدمات اور زیادہ قدر والی مینوفیکچرنگ کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔ ویتنام نے عالمی سپلائی چین کی تنوع کاری سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور وہ جنوب مشرقی ایشیا (آسیان) میں غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے لیے سرِفہرست مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے مطابق ویتنام اب محض ایک “کم لاگت فیکٹری” نہیں رہا بلکہ وہ الیکٹرانکس، فوڈ پروسیسنگ، گرین ٹیکسٹائل اور معاون صنعتوں میں عالمی ویلیو چین میں بتدریج اپنا مقام بہتر بنا رہا ہے۔ معاشی ترقی کا انحصار اب زیادہ تر جدت، پیداواری صلاحیت اور ڈیجیٹل معیشت پر ہے، جہاں ای کامرس، فن ٹیک اور اسٹارٹ اپس نئے محرکات کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

ذمہ دار شراکت دار

معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ویتنام کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ آکسفورڈ اکنامکس اور دیگر اداروں کے مطابق تجارتی معاہدوں پر عملدرآمد اور علاقائی و عالمی اقدامات میں فعال شرکت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔

آسیان کے اندر ویتنام کو ایک استحکام پیدا کرنے والی قوت سمجھا جاتا ہے، جو مختلف ترقیاتی مراحل سے گزرنے والی معیشتوں کے درمیان معاشی تعاون اور منڈیوں کے باہمی ربط کو فروغ دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی معاشی استحکام اور محتاط پالیسی حکمتِ عملی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ عالمی سپلائی چینز میں جاری تبدیلیوں کے تناظر میں ویتنام سے ایک مستقل اور قابلِ اعتماد کردار کی توقع کی جا رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کئی منڈیاں سپلائی کے ذرائع میں تنوع کی خواہاں ہیں۔

فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث جب کثیرالقومی کمپنیاں اپنی سپلائی چینز ازسرِنو ترتیب دے رہی ہیں تو ویتنام میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق یہ صورتحال ویتنام کے معاشی ماحول پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاس ہے۔ عالمی بینک کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ ای کامرس، فن ٹیک اور نئی ٹیکنالوجیز کی توسیع طویل المدتی ترقی کے تسلسل کے لیے نہایت اہم ہو گی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بھی ویتنام میں ڈیجیٹل تبدیلی اور پیداواری صلاحیت میں تیزی پر خوش بینی کا اظہار کیا ہے، جس کی بنیاد پیشہ ورانہ تعلیم اور نوجوان افرادی قوت کے لیے مہارتوں کی تربیت میں اصلاحات ہیں۔ اسی سمت کی توثیق پارٹی کے جنرل سیکریٹری ٹو لام نے ایک کانفرنس میں کی، جہاں حکومت کی 2025 کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور 2026 کے اہداف کا تعین کیا گیا۔ انہوں نے پیداواریت، جدت، سائنس و ٹیکنالوجی، اور سبز، ڈیجیٹل و سرکلر معیشت پر مبنی ترقیاتی ماڈل پر زور دیا۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق جیسے جیسے ویتنام کی عالمی حیثیت میں اضافہ ہو رہا ہے، اسی طرح مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور سپلائی چین میں شفافیت سے متعلق توقعات بھی بڑھ رہی ہیں، جو دیرپا اور جامع ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سال 2026 ایک نئے ترقیاتی مرحلے کا آغاز ہے، جو کمیونسٹ پارٹی کے 14ویں قومی کانگریس کی قرارداد اور 2026 تا 2030 پانچ سالہ سماجی و معاشی ترقیاتی منصوبے کے نفاذ سے منسلک ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سال ملک کے ترقیاتی ماڈل اور طویل المدتی معاشی سمت کے تعین کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔

شہباز شریف Previous post وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیشہ ورانہ تربیت کے نئے ایکوسسٹم پر جائزہ اجلاس
توقایف Next post صدر توقایف کی پارلیمانی اور آئینی اصلاحات پر ورکنگ اجلاس کی صدارت