
صدر پرابووو نے بالکپاپان میں انڈونیشیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کا افتتاح کر دیا
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو نے پیر کے روز مشرقی کلیمنتان کے شہر بالکپاپان میں ریفائنری یونٹ وی میں ریفائنری ڈویلپمنٹ ماسٹر پلان (آر ڈی ایم پی) منصوبے کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری نے باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کر دیا۔
جکارتہ میں لائیو نشریات کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے صدر پرابووو نے کہا کہ سرکاری توانائی کمپنی پرتامینا کے زیرِ انتظام بالکپاپان ریفائنری گزشتہ 32 برسوں میں انڈونیشیا میں افتتاح ہونے والا پہلا آر ڈی ایم پی منصوبہ ہے۔ انہوں نے اس اہم منصوبے کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے ملک کا درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔
صدر نے کہا کہ انڈونیشیا میں بایو ڈیزل، جیو تھرمل، شمسی اور آبی توانائی کے شعبوں میں نمایاں صلاحیت موجود ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ترقی کے لیے توانائی کے وافر وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال اور منظم کرنا ناگزیر ہے۔
صدر پرابووو نے کہا، “ہمیں درآمدی توانائی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ قوم خودکفالت کی خواہاں ہے اور اس صلاحیت کی حامل بھی ہے، کیونکہ ہمارا ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔”
ادھر وزیرِ توانائی و معدنی وسائل بہلیل لہدالیہ نے تصدیق کی کہ بالکپاپان کی یہ تنصیب انڈونیشیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ہے، جس پر 123 کھرب انڈونیشیائی روپیہ (تقریباً 7.3 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس ریفائنری کو قومی آئل انڈسٹری کی جدید کاری کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتی ہے۔
وزیر کے مطابق یہ منصوبہ تیل کی پروسیسنگ کی صلاحیت میں اضافہ، اعلیٰ معیار اور ماحول دوست ایندھن کی پیداوار، پیٹروکیمیکل شعبے میں ڈاؤن اسٹریم ترقی، اور قومی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
بالکپاپان ریفائنری یومیہ 3 لاکھ 60 ہزار بیرل تیل پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو ملکی مجموعی طلب کے تقریباً ایک چوتھائی کے برابر ہے۔ اس کی پیداوار میں ایندھن، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور پیٹروکیمیکل مصنوعات شامل ہیں۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے ایندھن کی درآمدات میں 68 کھرب روپیہ کی کمی، مجموعی قومی پیداوار میں 514 کھرب روپیہ کا اضافہ، ایندھن میں سلفر کی مقدار کم ہو کر 10 پارٹس پر ملین تک آنا، اور اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات کی پیداوار 91.8 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔