گھر

کّچے گّھڑے

بچپن میں اگر ہم کسی کام سے گھر سے نکلتے اور مقررہ وقت پر واپس نہ لوٹتے تو پورا گھر ایک خاموش بے چینی میں ڈوب جاتا۔ مائیں ٹہلنے لگتیں، باپ بار بار دروازے کی طرف نگاہ ڈالتے، اور جب ہم آخرکار گرد آلود اور بے فکری سے لوٹتے تو سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی، جو ہمیں کسی باضابطہ تفتیش سے کم محسوس نہ ہوتی۔ ان لمحات میں جھنجھلاہٹ ہم پر غالب آ جاتی، اور تب دادی کی نرم مگر پُرعزم آواز ہمیں یاد دلاتی کہ ایک دن ہم خود یہ سب سمجھ جائیں گے۔ وقت نے، جیسا کہ ہمیشہ کرتا ہے، ان کی بات درست ثابت کر دی۔ آج ہم بھی اپنے بچوں کو لیکر اسی طرح فکر مند ہوتے ہیں جیسے ہمارے والدین ہوا کرتے تھے۔

آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ والدین ہر صبح اپنے بچوں کو امید اور اندیشے کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی طرف روانہ کرتے ہیں۔ تعلیم اب بھی عزت اور استحکام تک پہنچنے کا سب سے محفوظ راستہ سمجھی جاتی ہے۔ مگر پاکستان بھر کے خاندانوں کو اب ایک لرزا دینے والا خوف گھیرنے لگا ہے؛ اگر کوئی بچہ تعلیمی ادارے کی دیواروں کے اندر ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے تو؟ والدین کے لیے اس سے بڑا کوئی سانحہ نہیں، اور ایک نوخیز زندگی کے بجھ جانے کے بعد جو خاموشی رہ جاتی ہے، اس سے زیادہ اذیت ناک کوئی اور نہیں۔

لاہور، جو طویل عرصے سے ملک کا فکری مرکز سمجھا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں ایسے افسوسناک واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھ چکا ہے، خصوصاً بعض نجی جامعات میں ان واقعات کی تعداد غیر معمولی ہے۔ علاوہ ازیں اسی نوعیت کے سانحات پشاور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور دیگر شہروں سے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ کہیں ہاسٹل کے کمرے میں ایک طالب علم کی بے جان لاش ملتی ہے، کہیں انتظامیہ سے تلخ کلامی کے بعد کوئی عمارت سے چھلانگ لگا دیتا ہے، اور کہیں چند سطروں پر مشتمل ایک تحریر پیچھے رہ جاتی ہے جو مایوسی کے بوجھ سے دبی ہوتی ہے۔ ہر واقعہ کچھ دیر کے لیے خبروں اور سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے، مگر ہر سرخی کے پیچھے ایک خاندان ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا ہے۔

معتبر مطالعات اور میڈیا پر مبنی تجزیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ رپورٹ ہونے والے طالب علموں کی خودکشیوں کا ایک بڑا حصہ کالجوں اور جامعات کے اندر پیش آتا ہے۔ کئی برسوں کے اخباری ریکارڈ پر مبنی تحقیق بتاتی ہے کہ تقریباً نصف کیسز کا تعلق اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک وہ نتائج ہیں جو تعلیمی سرویز سے سامنے آئے ہیں؛ پاکستان کی جامعات کے چالیس فیصد سے زائد طلبہ میں ڈپریشن کی علامات پائی جاتی ہیں، جبکہ میڈیکل اور پیشہ ورانہ اداروں کے طلبہ پر ہونے والی تحقیق کے مطابق تقریباً ایک تہائی طلبہ خودکشی کے خیالات کا اعتراف کرتے ہیں، اور ایک نسبتاً کم مگر نہایت خوفناک تناسب ایسے طلبہ کا ہے جو کسی نہ کسی مرحلے پر خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں۔ تحقیق میں بارہا حوالہ دیے جانے والے یہ اعداد و شمار، سماجی بدنامی اور کم رپورٹنگ کے باعث، غالباً اصل مسئلے کی پوری تصویر پیش نہیں کرتے۔

یہ المیہ اس وقت مزید کربناک ہو جاتا ہے جب متاثرہ طالبہ ایک نوجوان لڑکی ہو۔ ضبط اور ہمدردی کے بجائے معاشرہ اکثر سرگوشیوں، بہتان تراشی اور بے رحمانہ قیاس آرائیوں کا سہارا لیتا ہے۔ اس کے کردار کو نشانہ بنایا جاتا ہے، خاندان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے، اور اس کی اذیت کو غیر معمولی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ شاذ ہی ہم خلوص کے ساتھ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر کون سا ناقابلِ برداشت دباؤ یا تذلیل اسے اس آخری فیصلے تک لے گئی۔

اس مسئلے کی وجوہات پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی ہیں۔ تعلیمی دباؤ سرِفہرست ہے۔ بہت سے ادارے ذہنی صحت کے بجائے نمبروں، حاضری کے تناسب اور سخت نظم و ضبط کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں طلبہ کو تعلیمی کمزوری پر سرِعام ذلیل کیا گیا یا نکالے جانے کی دھمکی دی گئی، جو ایک نازک ذہن کے لیے دنیا کے خاتمے کے مترادف محسوس ہو سکتی ہے۔ خاندانی توقعات، اگرچہ اکثر محبت سے جنم لیتی ہیں، مگر جب کامیابی کی تعریف تنگ ہو اور ناکامی کو رسوائی سمجھا جائے تو وہ دم گھونٹ دینے والی بن جاتی ہیں۔ مالی دباؤ، بے روزگاری کا خوف اور بے رحم مسابقت اس بے چینی کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

جدید زندگی نے پرانے دباؤ میں نئی جہتیں شامل کر دی ہیں۔ سوشل میڈیا موازنہ اور ناکامی کو بڑھا چڑھا کر دکھاتا ہے، نوجوان ذہنوں کو مسلسل فیصلوں کی زد میں رکھتا ہے، مگر حقیقی سہارا فراہم نہیں کرتا۔ اسی دوران ذہنی صحت اب بھی ایک ممنوع موضوع بنی ہوئی ہے۔ بہت سے طلبہ خاموشی سے کرب جھیلتے رہتے ہیں، اس خوف سے کہ کہیں کمزور یا غیر متوازن نہ قرار دے دیے جائیں۔ معاشرے میں صبر، برداشت اور ہمدردی کے زوال نے ان کی تنہائی کو اور گہرا کر دیا ہے۔

ایک گہرا روحانی خلا بھی اس المیے میں کردار ادا کرتا ہے۔ ایمان سے بڑھتی ہوئی دوری نے بہت سے نوجوانوں کو اندرونی سہارا فراہم کرنے والے لنگر سے محروم کر دیا ہے۔ اسلام نہ صرف خودکشی کو حرام قرار دیتا ہے بلکہ امید، صبر اور انسانی جان کی حرمت پر غیر معمولی زور دیتا ہے۔ جب یہ اقدار ماند پڑ جاتی ہیں تو مایوسی کو پنپنے کا موقع مل جاتا ہے۔

اگر یہ رجحان بغیر روک ٹوک کے جاری رہا تو والدین لازماً یہ سوال اٹھائیں گے کہ آیا جامعات علم کے محفوظ گہوارے ہیں یا خاموش اذیت کے میدان۔ اس بحران کا حل ہر سانحے کے بعد رسمی تحقیقات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک واضح اور دیرپا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

تعلیمی اداروں کو مستند اور رازدارانہ ذہنی صحت کی خدمات قائم کرنی ہوں گی، جن میں تربیت یافتہ ماہرین موجود ہوں۔ کونسلنگ کو ثانوی معاملہ نہیں بلکہ کیمپس زندگی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ اساتذہ اور منتظمین کو نفسیاتی پریشانی کی علامات پہچاننے کی تربیت دی جائے، اور نظم و ضبط کو تذلیل کے بجائے انسانیت کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ تعلیمی پالیسیوں میں معیار برقرار رکھتے ہوئے ہمدردی کی گنجائش پیدا کی جائے۔

والدین کو بھی اپنی توقعات پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی، نتائج کے بجائے کوشش اور دیانت کو اہمیت دینی ہوگی، اور گھروں کو ایسی محفوظ جگہیں بنانا ہوگا جہاں بچے ناکامی اور خوف کے بارے میں بلا جھجھک بات کر سکیں۔ قومی سطح پر ریاست کو ذہنی صحت کے ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، خودکشی سے متعلق اعداد و شمار کے اندراج کو بہتر بنانا چاہیے، اور تعلیمی اداروں میں حفاظتی ضوابط کو یقینی بنانا چاہیے۔

سب سے بڑھ کر، معاشرے کو ہمدردی ازسرِنو دریافت کرنا ہوگی اور ایمان، مقصد اور انسانی ربط کے ذریعے زندگی کو دوبارہ معنویت دینا ہوگی۔ تب ہی والدین ہر صبح اپنے بچوں کو خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ رخصت کر سکیں گے، اس یقین کے ساتھ کہ تعلیم کی جستجو زندگی کو سنوارے گی، اسے بجھائے گی نہیں۔

قومی اسمبلی Previous post گل پلازا کراچی آگ کے واقعے پر اسپیکر قومی اسمبلی کا اظہار افسوس
اسپین Next post جنوبی سپین میں تیز رفتار ٹرین حادثہ، 39 افراد ہلاک، درجنوں زخمی