
الفاظ سے زیادہ بدن بولی اور موجودگی کی اہمیت
آج کے دور میں میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا، اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ایک ایسی طاقت بن چکا ہے جو ہماری حقیقت کو تشکیل دیتا اور ہماری زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ہر فرد، جس کے ہاتھ میں ہتھیلی کے برابر ایک آلہ موجود ہے، اب اس قابل ہو چکا ہے کہ کسی لمحے کو محفوظ کر کے چند ہی سیکنڈز میں اسے براعظموں کے پار پہنچا دے۔ اس غیر معمولی رسائی نے سفارت کاری کی زبان بھی بدل کر رکھ دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے افسانوں، تحریفات اور مصنوعی بیانیوں کو بھی جنم دیا ہے جو اکثر سچ سے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔ مگر اس وسیع ڈیجیٹل شور میں بھی بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جن کی صداقت اتنی واضح ہوتی ہے کہ وہ طویل ترین تقاریر سے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں اپنی بات کہہ دیتے ہیں۔
ڈیووس میں ہونے والی حالیہ عالمی کانفرنس نے بھی ایسے ہی چند لمحات فراہم کیے۔ جب ایک بار پھر دنیا کے سیاسی اور معاشی قائدین ایک جگہ جمع ہوئے تو پاکستان کی موجودگی غیر معمولی وضاحت اور اعتماد کے ساتھ نمایاں دکھائی دی۔ پاکستانی قیادت متحرک، باخبر اور پُراعتماد نظر آئی، جس کی سنجیدگی نمائش کے بجائے مقصد سے جڑی ہوئی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی مختلف ممالک کے سربراہان، عالمی مالیاتی اداروں کے قائدین اور بین الاقوامی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں ایک عملی اور حل پر مبنی سوچ کی عکاس تھیں۔ ان کی گفتگو کا محور معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے مواقع، ماحولیاتی مزاحمت اور علاقائی روابط رہے، جس سے پاکستان ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر سامنے آیا، نہ کہ محض مدد کا خواہاں ملک۔
ان کے ساتھ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف رہے۔ ان کی بات چیت میں ٹھہراؤ، تجربہ اور توازن نمایاں تھا، جس میں متوازن خارجہ پالیسی، کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی استحکام پر زور دیا گیا۔ ان روابط نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ پاکستان جدید سفارت کاری کی نزاکتوں کو بخوبی سمجھتا ہے اور تحمل و تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
ان تمام سرگرمیوں کے دوران فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی موجودگی خاموش مگر غیر معمولی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ بغیر کسی تصنع کے بیٹھے ہوئے، ان کی شخصیت نے کئی عالمی رہنماؤں، بشمول امریکی صدر، کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ مبصرین نے کارروائی کے دوران بار بار اٹھنے والی نگاہوں اور باریک اشاروں کو محسوس کیا۔ سفارت کاری میں ایسے غیر تحریری لمحات اکثر تیار شدہ بیانات سے کہیں زیادہ معنی خیز ہوتے ہیں۔ یہ ازسرِنو جائزے اور اعتراف کا اظہار ہوتے ہیں جو خطابت کے بجائے کردار سے جنم لیتے ہیں۔ عزت، جیسا کہ ہمارا ایمان ہمیں یاد دلاتا ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اس موقع پر پاکستان وقار اور عالمی احترام کے ایک نادر امتزاج پر کھڑا دکھائی دیا۔
اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھنا بھی نہایت معنی خیز تھا۔ ایک ایسے سیاسی ماحول میں جسے اکثر منقسم قرار دیا جاتا ہے، یہ منظر قومی مفاد کے معاملات پر بلوغت اور اتحاد کی علامت بن کر سامنے آیا۔ چند لمحوں میں محفوظ ہو کر دنیا بھر میں پھیل جانے والی اس تصویر نے وہ پیغام دے دیا جو طویل بیانات بھی بعض اوقات نہیں دے پاتے۔
ڈیووس میں امن بورڈ سے متعلق مباحث میں پاکستان کی شمولیت کے بارے میں پیدا ہونے والا مثبت تاثر اس مجموعی تصویر کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ تاہم یہ بات قابلِ غور ہے کہ کئی بااثر ممالک نے باضابطہ طور پر پیس بورڈ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔ اس ہچکچاہٹ کے پیچھے پیچیدہ اسٹریٹجک حسابات، اندرونی سیاسی دباؤ اور ایک زیادہ منقسم دنیا میں اجتماعی اخلاقی ذمہ داریوں سے جڑنے کے خدشات کارفرما ہیں۔ حتیٰ کہ برطانیہ نے بھی، اپنی طویل سفارتی روایت کے باوجود، اس میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ یہ رویہ اس تناظر میں اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اس بورڈ میں ایک اہم عہدہ رکھتے ہیں۔ یہ تضاد عالمی سیاست کی اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اکثر ریاستیں ذمہ داری کے بغیر اثرورسوخ کو ترجیح دیتی ہیں، اور جوابدہی کے بغیر قربت کو پسند کرتی ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان کی ممکنہ شمولیت کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ مئی 2025 کے فیصلہ کن واقعات کے دوران ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹریٹجک وضاحت کے ذریعے حاصل کی گئی ساکھ نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو امن سے متعلق مباحث میں تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل کی مسلسل عالمی سطح پر موجودگی اس تاثر کو مزید تقویت دیتی ہے کہ پاکستان نظم و ضبط اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
اسی تناظر میں ایک مکتبہ فکر یہ تجویز دیتا ہوابھی دکھائی دیتا ہے اگر پیس بورڈ میں شمولیت کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے سے قبل پارلیمان میں بحث کی جاتی تو یہ قدم مزید دانشمندانہ اور جمہوری روایات کے مطابق ہوتا۔ اس سے حکومت کو سیاسی اطمینان بھی حاصل ہوتا کیونکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ محض انتظامی اقدام کے بجائے اجتماعی قومی مؤقف میں ڈھل جاتا۔ ایک منقسم سیاسی فضا میں پارلیمانی تائید ادارہ جاتی اتفاقِ رائے کو مضبوط کرتی اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں کو غیر ضروری تنازعات سے محفوظ رکھتی۔
تاریخ ہمیں اس طرزِ عمل کی روشن مثالیں فراہم کرتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی سیاسی روایت بین المذاہب اصولی روابط کی مضبوط مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ قرآنِ مجید یہود و نصاریٰ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ میثاقِ مدینہ نے مسلمانوں اور یہودیوں کو مشترکہ ذمہ داریوں کے تحت ایک سیاسی برادری میں باندھا۔ نجران کے عیسائیوں سے کیے گئے معاہدے نے مذہبی آزادی اور تحفظ کی ضمانت دی۔ حضرت عمرؓ کا بیت المقدس میں دیا گیا عہدنامہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے اپنے عیسائی مخالفین سے معاہدے ضبط، انصاف اور حکمتِ عملی کا عملی نمونہ تھے۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ اخلاقی وضاحت پر مبنی سفارت کاری دیرپا اثر رکھتی ہے۔
اسی پس منظر میں عالمی امن فورمز میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی اسے مظلوم اقوام، خصوصاً غزہ کے فلسطینیوں، کے لیے مؤثر آواز اٹھانے کے قابل بناتی ہے۔ ایک معتبر اور متحرک پاکستان انسانی حقوق کے معاملات کو زیادہ قوت کے ساتھ عالمی سطح پر اجاگر کر سکتا ہے۔ جب کوئی ریاست متحد، ذمہ دار اور امن کی داعی سمجھی جائے تو اس کی وکالت میں وزن خود بخود بڑھ جاتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں تاثر اکثر پالیسی سے پہلے جنم لیتا ہے، تصاویر اور مختصر لمحات غیر معمولی طاقت رکھتے ہیں۔ وہ مقاصد جو کبھی طویل تقاریر کے محتاج تھے، اب چند لمحوں کی حقیقی موجودگی سے حاصل ہو سکتے ہیں۔ ڈیووس کے مناظر نے اتحاد، سنجیدگی اور خاموش اعتماد کی تصویر پیش کی۔
بالآخر، ایسے لمحات کی اہمیت عارضی داد میں نہیں بلکہ مستقل تسلسل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ وقار کو دانشمندانہ پالیسی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی مفاد کی واضح سمت کے ذریعے برقرار رکھا جاتا ہے۔ جب سول اور عسکری قیادت نظم و ضبط کے ساتھ ہم قدم ہو، تو دنیا کے سامنے استحکام اور اعتبار کی تصویر ابھرتی ہے۔ ایک ایسے عالم میں جہاں سیکنڈز کی اہمیت ہے اور بیانیے تیزی سے بدلتے ہیں، پاکستان کی حالیہ پیش رفت ایک ابدی سچ کی یاد دہانی ہے: بعض اوقات تاریخ الفاظ سے نہیں، موجودگی سے آگے بڑھتی ہے۔