ڈالر

عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی، ڈالر کی بالادستی کو سنگین چیلنجز کا سامنا

دبئی، یورپ ٹوڈے: عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی بالادستی کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں بھارت، چین اور برکس ممالک سمیت کئی اہم معیشتیں ڈالر پر انحصار کم کرنے کی سمت تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہیں۔ حالیہ اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت نے 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کر دیے، جس کے نتیجے میں اس کے امریکی ذخائر میں 21 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ گزشتہ چار برسوں میں پہلی بار ہے کہ بھارت کے امریکی بانڈز میں سالانہ بنیادوں پر اتنی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح چین نے اکتوبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران 71 ارب ڈالر مالیت کے امریکی قرضے اتار دیے ہیں۔

برکس ممالک نے بھی اجتماعی طور پر صرف ایک ماہ کے دوران اپنے امریکی ٹریژری ذخائر میں 29 ارب ڈالر کی کمی کی، جو ریزرو مینجمنٹ میں ایک خاموش مگر مربوط حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ڈالر پر اعتماد میں کمی کا واضح ثبوت ہیں۔

امریکی ڈالر کو درپیش مشکلات میں امریکی حکومت کا 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرتا ہوا قرضہ، شرحِ سود میں عدم استحکام، بانڈز کی قیمتوں میں کمی اور قرض لینے کی بڑھتی لاگت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جغرافیائی سیاسی عوامل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روس کے ڈالر ذخائر کو منجمد کیے جانے کے بعد یہ خدشہ مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ ڈالر کے اثاثوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان حالات کے پیشِ نظر کئی ممالک اپنی سرمایہ کاری کو متنوع بنانے کی پالیسی اپنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سونا ایک بار پھر محفوظ زرمبادلہ ذخیرے کے طور پر مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سونا دیوالیہ یا پابندیوں کے خطرے سے پاک ہونے کے باعث بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی میں استحکام فراہم کرتا ہے۔

عالمی تجارت بھی تیزی سے ڈالر کے دائرے سے باہر نکل رہی ہے۔ چین 40 سے زائد ممالک کے ساتھ یوان میں تجارت کر رہا ہے، روس اور ایران کے درمیان لین دین روبل میں ہو رہا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی نان ڈالر کرنسیوں کو قبول کرنے لگا ہے۔ بھارت نے 20 ممالک کے بینکوں کے ساتھ روپے میں خصوصی اکاؤنٹس قائم کیے ہیں اور برکس کی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی نیٹ ورک کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ امریکی ڈالر کی بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کا دور اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جے پی مورگن کی ماہر جوائس چانگ کے مطابق، اگرچہ ڈالر ایک اہم عالمی کرنسی کے طور پر موجود رہے گا، تاہم اب یہ واحد غالب عالمی کرنسی نہیں رہے گا۔

Previous post حالتِ بے سروسامانی نہیں جاتی ہے
لیلی علیئیوا Next post لیلی علیئیوا اور اقوامِ متحدہ جنیوا دفتر کی سربراہ کے درمیان بحیرۂ کیسپین کے ماحولیاتی مسائل پر تبادلۂ خیال