فورسز

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی فیصلہ کن کارروائیاں، 92 دہشت گرد ہلاک

راولپنڈی، یورپ ٹوڈے: سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم و حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے اور بلوچستان میں جاری کارروائیوں کے دوران تین خودکش حملہ آوروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طویل، شدید اور جرات مندانہ کلیئرنس آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کا انتہائی مہارت سے مقابلہ کیا اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے دشمن کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر کی جانے والی ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقصد بلوچستان کی ترقی کو نقصان پہنچانا اور مقامی آبادی کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا تھا۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جو شہید ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور ان گھناؤنی کارروائیوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد سرغناؤں کی جانب سے دی گئیں، جو کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے براہِ راست رابطے میں تھے۔

اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 41 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ گزشتہ دو روز میں ہونے والی ان کامیاب کارروائیوں کے بعد بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رہیں گے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے شروع کی گئی انسدادِ دہشت گردی مہم “عزمِ استحکام” کے وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رکھیں گے۔

Previous post کم ظرف دشمن
پاکستان Next post پاکستان اور بنگلہ دیش نے بیرون ملک مزدوروں کے مشترکہ چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا