
اقوام متحدہ میں پاکستان کی ترکیہ کے سماجی ادارے ’دارالعجزہ‘ کی خدمات کو خراجِ تحسین
اقوام متحدہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے ترکیہ کے شہر استنبول میں قائم جامع سماجی نگہداشت کے ادارے ’دارالعجزہ‘ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ 1895 سے اس بات کی عملی مثال پیش کر رہا ہے کہ طویل المدتی نگہداشت کے نظام اس وقت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں جب ریاستی ذمہ داری کو فلاحی سرگرمیوں، رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ جوڑا جائے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ بات اقوام متحدہ کے کمیشن برائے سماجی ترقی کے 64ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک سائیڈ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ تقریب ترکی، پاکستان، قطر اور آذربائیجان کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا عنوان تھا:
“سماجی یکجہتی پر مبنی جامع طویل المدتی نگہداشت کا نظام: ترکی کا 130 سال پرانا ادارہ ’دارالعجزہ‘ بطور بہترین مثال”۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ دارالعجزہ کے اصول پاکستان کی سماجی اور اخلاقی روایات سے گہری مطابقت رکھتے ہیں، جہاں یکجہتی پر مبنی نگہداشت نہ صرف عوامی پالیسی بلکہ معاشرتی طرزِ عمل کا بھی حصہ ہے۔
انہوں نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے سماجی تحفظ کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو ملک کے سماجی تحفظ کے نظام کی بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ سے مالی معاونت کے ذریعے بی آئی ایس پی لاکھوں کم آمدنی والے گھرانوں، بالخصوص خواتین کی سربراہی والے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے، جو غربت کے خاتمے، آمدنی کے تحفظ اور سماجی شمولیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سفیر نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس واضح پالیسی عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشرے کے سب سے کمزور طبقات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری اور انسانی وقار و حقوق کا معاملہ ہے۔
انہوں نے پاکستان بیت المال کے طویل المدتی کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ بزرگوں، خواتین، معذور افراد، یتیموں اور بے سہارا افراد کی معاونت کے لیے رہائشی مراکز، طبی سہولیات، بحالی اور فنی تربیت سمیت مختلف خدمات فراہم کر رہا ہے، جن کی مالی معاونت حکومتی فنڈز، زکوٰۃ، فلاحی عطیات اور رضاکارانہ تعاون سے کی جاتی ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان میں منظم فلاحی خدمات اور رضاکارانہ سرگرمیوں کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ روایت کا ذکر کرتے ہوئے ایدھی فاؤنڈیشن کو انسانیت کی خدمت کی عالمی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی عطیات اور رضاکاروں کے ذریعے شیلٹر ہومز، ایمبولینس سروسز، اولڈ ایج ہومز اور ہنگامی امدادی نیٹ ورکس چلانا سماج پر مبنی نگہداشت کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں فلاحی ٹرسٹس، مذہبی تنظیموں اور نجی شعبے کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کی سرگرمیاں بھی طویل المدتی نگہداشت اور کمیونٹی پر مبنی سماجی خدمات میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہی ہیں۔
آخر میں پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سماجی یکجہتی پر مبنی نگہداشت کے ماڈلز کو محض اچھی مثالوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عالمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے، اور اقوام متحدہ و بین الاقوامی مالیاتی ادارے ان ماڈلز کی دستاویز بندی، مالی معاونت اور توسیع میں سرمایہ کاری کریں تاکہ جامع سماجی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔