
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر پر فکری و ادبی تقریب، نوجوانوں کے کردار پر زور
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، اسلام آباد کے زیر اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سےفیض احمد فیض آڈیٹوریم، سیکٹر H-8/1، اسلام آباد میں ایک خصوصی فکری و ادبی تقریب بعنوان “کشمیر کا مقدمہ: نسلِ نو کی زبانی” منعقد ہوئی۔تقریب کی صدارت سردار مسعود خان، سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے کی، تقریب کے مہمانانِ خصوصی اورنگزیب خان کچھی، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، رانا محمد قاسم نون، وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر، ڈاکٹر سمیع اللہ ملک، کشمیری رہنما و دانشور، اور مہمانِ اعزاز اسدرحمان گیلانی ، وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر کاشف عرفان نے انجام دیے۔تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد حسن احمد، طالب علم پنجاب گروپ آف کالجز نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی، جبکہ جبران حیدر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔
اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ تقریب کا مقصد نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر پر اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنا ہے، کیونکہ کشمیر کا مستقبل انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود نامکمل ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اس تقریب کا انعقاد اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو محض سیاسی بیانیے تک محدود رکھنے کے بجائے فکری، ادبی اور تہذیبی سطح پر زندہ رکھا جائے۔ ادب قومی شعور کی تشکیل، تاریخ کے تحفظ اور عالمی مکالمے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ انہوں نے پنجاب گروپ آف کالجز کی انتظامیہ اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ نے نہ صرف سامعین کی حیثیت سے بلکہ بھرپور مکالمے اور فعال شرکت کے ذریعے اپنی فکری وابستگی کا ثبوت دیا۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، H-9 کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جہاں کے طلبہ نے “کشمیر کا مقدمہ” کے موضوع پر ڈرامہ پیش کیا، جس میں کشمیری عوام کے دکھ، کرب اور جدوجہد کو فنکارانہ انداز میں نہایت مؤثر طور پر اجاگر کیا گیا۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کے جذبات اور وابستگی کو دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک سنجیدہ انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب اکادمی ادبیات پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر ادبی سطح پر مؤثر کاوشوں کی عکاس ہے اور بطور علمی و ادبی ادارہ مسئلہ کشمیر پر فکری اور علمی معاونت فراہم کر رہی ہے اورحکومت اس مسئلے کو بھرپور انداز میں عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ میں اجاگر کر رہا ہے۔
وفاقی سیکریٹری اسدرحمان گیلانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہماری تہذیبی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔ ہمیں اس بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے فکری اور ثقافتی سطح پر مسلسل کاوشیں کرنا ہوں گی۔ڈاکٹر سمیع اللہ ملک نےاپنی خطاب میں مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، اس کی بین الاقوامی حیثیت اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں کو غور و فکر، شعور اور فکری بیداری کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ عالمی ضمیر کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ کشمیر ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل میں مماثلت ہے، جہاں عوام طویل عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت تک اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کشمیر اس کا حصہ نہیں بنتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں کشمیری عوام کی جدوجہد سے آگاہ رہیں۔
سردار مسعود خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام کی طویل جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ظلم، جبر اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے اور جینوسائیڈ کے ذریعے وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کو یہ موقع میسر آیا ہے کہ وہ نئے عزم اور مضبوط مؤقف کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرے۔آخر میں تقریب میں شریک طلبہ و طالبات میں اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات بطور تحائف تقسیم کی گئیں۔