امام بارگاہ

امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر خودکش حملے کے ملزم کی شناخت، تفتیش جاری

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر جمعہ کے روز ہونے والے خودکش حملے میں ملوث بمبار کی شناخت یاسر خان کے نام سے ہوئی ہے، جو پشاور کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ تفتیش سے وابستہ ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور نے اس وقت دھماکا کیا جب امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 نمازی شہید اور تقریباً 170 افراد زخمی ہوئے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یاسر خان پاکستان واپس آنے سے قبل تقریباً پانچ ماہ افغانستان میں مقیم رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے کالعدم شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ (آئی ایس کے پی) سے ممکنہ روابط کی بھی نشاندہی ہوئی ہے، تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق حملہ آور نے افغانستان میں قیام کے دوران عسکری تربیت حاصل کی اور وہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ میں واقع ایک مبینہ استشہادی تربیتی مرکز میں بھی رہا۔ بتایا گیا ہے کہ اس نے متعدد مرتبہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفر کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے پسِ پردہ مکمل نیٹ ورک، مقامی و سرحد پار روابط اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کو وسعت دے دی گئی ہے۔

دریں اثنا، وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی خودکش حملہ آور کی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغان شہری نہیں تھا، تاہم فرانزک معائنے کے ذریعے اس کے افغانستان کے سفر سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ خطے کی سلامتی کے لیے وسیع خطرہ ہیں، جبکہ پاکستان میں حملوں کے پسِ منظر میں افغانستان اور بھارت کے مابین مبینہ گٹھ جوڑ کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، جس کی کابل نے تردید کی ہے۔

ادھر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امام بارگاہ حملے کا ذمہ دار بھارت-افغانستان مبینہ گٹھ جوڑ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ شواہد سے حملہ آور کے افغانستان کے سفر اور روابط ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حملہ آوروں کو مذہب اور قوم کے دشمن قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ ریاست اس حملے کا پوری قوت سے جواب دے گی۔

حکام کے مطابق واقعے کے بعد سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور تحقیقات کے نتائج سامنے آنے پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مریم نواز Previous post وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت کی تمام تقریبات منسوخ کر دیں
فاؤزان Next post اعلیٰ تعلیم کی بحالی ناگزیر، سماجی مسائل کے حل میں جامعات کا کردار اہم ہے: نائب وزیر فاؤزان