
اسلام آباد مسجد دھماکہ: صدر آصف علی زرداری کا عالمی برادری سے اظہارِ تشکر، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر زور
اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والے دہشت گرد بم دھماکے کے بعد غم کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پر دنیا بھر کے رہنماؤں اور اقوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صدر نے کہا کہ عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے بھرپور اور مخلصانہ حمایت و یکجہتی پر پاکستان شکر گزار اور قدردان ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ ہمدردی اور یکجہتی کے پیغامات نے پاکستانی عوام کو تسلی دی اور سوگوار خاندانوں کو حوصلہ بخشا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ پیغامات اس حقیقت کی توثیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور اس کے پیچھے کارفرما پرتشدد نظریات کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری اور سب کی مشترکہ لڑائی ہے۔
صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان طویل عرصے سے اس مؤقف پر قائم ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کوئی ایک ملک تنہا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جب دہشت گرد گروہوں کو سرحدوں سے باہر جگہ، سہولت یا استثنا ملتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر میں معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
اس تناظر میں صدرِ مملکت نے کہا کہ افسوس کے ساتھ بعض ہمسایہ ممالک نے دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر جرم میں شراکت داری کی ہے، جبکہ کچھ عناصر کو مالی معاونت کے ساتھ ساتھ تکنیکی اور عسکری سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی حقیقت حالیہ برسوں میں خطے کی صورتحال کی تشکیل کا باعث بنی ہے۔
صدر زرداری نے افغانستان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون سے قبل یا اس سے بھی بدتر ہیں، جب دہشت گرد تنظیمیں عالمی امن کے لیے شدید خطرہ تھیں اور بالآخر 9/11 جیسے سانحے پر منتج ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک کی جانب سے طالبان حکومت کی معاونت نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
صدرِ مملکت نے ایک بار پھر مشکل کی اس گھڑی میں عالمی برادری کی جانب سے ہمدردی اور تعاون پر گہرے شکرگزار ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی یکجہتی نے دہشت گردی کی تمام اقسام کے خاتمے، امن اور استحکام کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔