انڈونیشیا

انڈونیشیا کو درمیانی درجے سے نکل کر ترقی یافتہ ملک بننا ہوگا: عبدالمہیمن اسکندر

Read Time:1 Minute, 59 Second

جکارتہ،یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے رابطہ کار وزیر برائے بااختیار سازیٔ کمیونٹی عبدالمہیمن اسکندر نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کو اب درمیانی سطح پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لیے عملی اور تیز رفتار اقدامات کرنا ہوں گے۔

بدھ کے روز جاری بیان میں انہوں نے کہا، “ہم مزید درمیانی درجے پر نہیں رہ سکتے۔ انڈونیشیا کو آج اور مستقبل میں حقیقی معنوں میں آگے بڑھنا ہوگا۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک معاشی نمو کے مرحلے میں تو رہا، تاہم وہ مکمل طور پر ترقی یافتہ ریاست کے درجے تک چھلانگ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

عبدالمہیمن اسکندر نے اس امر پر زور دیا کہ انڈونیشیا کے ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کے حصول کے لیے بین الشعبہ جاتی اور بین النسلی ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قدرتی وسائل پر انحصار دیرپا ترقی کے لیے کافی نہیں، کیونکہ یہ وسائل محدود ہیں اور طویل المدتی پیش رفت کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترقی یافتہ ممالک صنعتی کاری اور ڈاؤن اسٹریم صنعتوں کے فروغ کے ذریعے ابھرتے ہیں، جن کی بنیاد سائنس، ٹیکنالوجی اور بااختیار معاشرے پر ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے انڈونیشیا کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے ایک منفرد، موافق اور جامع حکمت عملی متعارف کرانے کی بات کی۔

ان کے مطابق “منفرد” سے مراد قومی سطح پر ایسی انفرادیت اور مسابقتی برتری پیدا کرنا ہے جو محض دیگر ممالک کی تقلید نہ ہو بلکہ اپنی شناخت اور صلاحیتوں پر مبنی ہو۔

انہوں نے کہا کہ “موافق” کا مطلب عالمی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے، جن میں توانائی کی منتقلی، ڈیجیٹلائزیشن اور عالمی معاشی اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔

جبکہ “جامع” سے مراد یہ ہے کہ صنعتی ترقی میں وسیع تر عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جائے، خصوصاً ان افراد کی جو صنعتی علاقوں کے اطراف میں رہتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کمیونٹی کی شمولیت اس لیے ضروری ہے تاکہ عوام صرف صنعتی سرگرمیوں کے اثرات برداشت نہ کریں بلکہ بہتر معیارِ زندگی اور معاشی ترقی کا لازمی حصہ بھی بنیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، “صنعت کو کمیونٹی کو بااختیار بنانے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اگر عوام اس عمل میں شریک اور بااختیار ہوں گے تو انڈونیشیا کا عروج محض نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن جائے گا۔”

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انصاف Previous post وزیراعظم شہباز شریف 18 فروری کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے، امریکی بورڈ آف پیس کے پہلے سربراہی اجلاس میں شرکت
ترکمانستان Next post ترکمانستان اور افغانستان کے درمیان بنیادی ڈھانچے اور توانائی تعاون پر پیش رفت