
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پولیس اصلاحات کے لیے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن، 14 ہزار باڈی کیم اور 700 پنک بٹن نصب کرنے کا فیصلہ
لاہور،یورپ ٹوڈے: وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں پولیس نظام کی بہتری اور شفافیت کے فروغ کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے جامع اصلاحاتی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلے لاہور میں ان کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس میں کیے گئے۔
اجلاس میں طے پایا کہ تھانوں کے باہر شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ’’پنک بٹن‘‘ نصب کیے جائیں گے، جبکہ ہر پولیس اسٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے۔ وزیرِ اعلیٰ نے باڈی کیمز کی خریداری کے لیے فنڈز کی فوری منظوری دیتے ہوئے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 14 ہزار باڈی کیم اور 700 پنک بٹن نصب کرنے کی ہدایت جاری کی۔
مزید برآں، انویسٹی گیشن کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبے میں ایف آئی آر کے اندراج اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے آن لائن ٹریکنگ سسٹم بھی شروع کیا جائے گا تاکہ شہری اپنی شکایت کی صورتحال گھر بیٹھے معلوم کر سکیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ ہر شہری کو ’’سر‘‘ کہہ کر مخاطب کریں اور عوام کے ساتھ باوقار رویہ اپنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا ازالہ 2 سے 3 گھنٹے کے اندر یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کاغذات اور شناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا نظام متعارف کرایا جائے گا، تاکہ شہریوں کو تھانوں کے غیر ضروری چکر نہ لگانے پڑیں۔
وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے آئی جی اور دیگر سینئر پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ خود عوامی فیڈ بیک حاصل کرنے کے لیے شہریوں سے براہِ راست رابطہ کریں، تاکہ اصلاحاتی اقدامات کے عملی نتائج کا جائزہ لیا جا سکے۔
ان اقدامات کو پنجاب میں پولیس اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے ادارے پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنا اور شفاف، جوابدہ اور شہری دوست نظام کو فروغ دینا ہے۔