
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں شدید بش فائر، متعدد علاقوں کو فوری انخلا کی ہدایت
میلبورن،یورپ ٹوڈے: آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے وسطی علاقے میں سیمور کے جنوب میں لگنے والی شدید بش فائر نے متعدد رہائشی املاک کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ ریاست کے بیشتر حصوں میں گرم اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ ٹراوول کے علاقے میں گولبرن ویلی ہائی وے کے قریب بھڑک اٹھی، جس کے بعد حکام نے ہنگامی انتباہ جاری کر دیا۔ سہ پہر 4 بجے جاری کیے گئے ایمرجنسی الرٹ میں کیریسڈیل، ٹیلاروک اور ٹراوول کے بعض حصوں کے مکینوں کو آگاہ کیا گیا کہ اب علاقہ چھوڑنے میں تاخیر ہو چکی ہے، کیونکہ آگ جنوب مغربی سمت میں فیئر ویو روڈ سے ویسٹ فالس روڈ تک پھیل رہی ہے۔
مزید برآں کیریسڈیل، ٹیلاروک، اسٹریتھ کریک اور ریڈی کریک کے جنوبی علاقوں کے لیے "واچ اینڈ ایکٹ” وارننگ جاری کی گئی اور رہائشیوں کو شام 6 سے 8 بجے کے درمیان متوقع ہوا کی سمت میں تبدیلی سے قبل فوری انخلا کی ہدایت دی گئی، کیونکہ اس سے آگ کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسٹیٹ کنٹرول سینٹر کے عہدیدار ڈیوڈ نیوجنٹ نے بتایا کہ آگ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں لگی ہے جہاں جنگلات اور صاف شدہ زمین کا ملا جلا ماحول ہے، جس کے باعث آگ پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق تیز ہوائیں جلتے ہوئے انگاروں کو قریبی رہائشی علاقوں کی طرف لے جا رہی ہیں، جبکہ ہواؤں کا رخ شام تک جنوب مغرب کی جانب متوقع ہے۔
فائر فائٹرز ہوا کی متوقع تبدیلی سے قبل آگ کے مشرقی اور شمال مشرقی اطراف میں کنٹرول لائنز قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ آگ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
اسٹریتھ کریک کے رہائشی کلائیو نے گفتگو میں بتایا کہ وہ اپنی جائیداد سے دھواں اور آگ کے شعلے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیلاروک کا جنگلاتی علاقہ آگ کے لیے نہایت حساس ہے اور حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔
مرینڈنڈی شائر کے میئر اور سی ایف اے کے رضاکار ڈیمین گیلاگر نے بتایا کہ اسٹریتھ کریک سے انخلا کرنے والے افراد یا شہر کے تفریحی ریزرو میں جمع ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیونٹی حال ہی میں لانگ ووڈ بش فائر کے بعد بحالی کے مرحلے میں داخل ہوئی تھی اور اب ایک اور ہنگامی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہوا کا رخ بدلنے کی صورت میں یا شہر کو خصوصی نگرانی کی ضرورت ہوگی۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق گولبرن ویلی ہائی وے کے قریب آگ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ دوپہر 3 بجے تک شاہراہ کھلی تھی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی پیش رفت کے مطابق اسے بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ ڈرائیورز کو متبادل طور پر ہیوم فری وے استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔