رمضان

رمضان اور اصلاحِ کردار

جوں جوں ماہِ مبارک رمضان قریب آتا ہے، انسان خود بخود غور و فکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ مجھے اشفاق احمد صاحب کی ڈائری میں درج ایک دلکش مگر گہرا واقعہ یاد آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اُن کے دفتر میں ایک جاپانی ساتھی، میوا نامی ایک نوجوان خاتون، نے رمضان کے آغاز پر اُن سے سوال کیا: ’’آپ پورا مہینہ سحری سے افطار تک بھوکے اور پیاسے رہ کر کیا حاصل کرتے ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ روزہ عبادت ہے؛ یہ صرف کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں بلکہ جھوٹ، بددیانتی، ناانصافی اور ہر ناپسندیدہ عمل سے اجتناب کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ انسان کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دے، تول میں انصاف کرے، سچ بولے، اور اپنی زبان اور دل کو ہر برائی سے محفوظ رکھے۔ اس نوجوان خاتون نے نہایت سنجیدگی سے کہا: ’’آپ لوگوں کو تو بڑی سہولت میسر ہے۔ ہمیں تو سال بھر ان برائیوں سے بچنا پڑتا ہے، جبکہ آپ صرف ایک مہینہ ایسا کرتے ہیں”۔

یہ سادہ مگر معنی خیز بات مسلمان ضمیر کے لیے آئینہ ہے۔ رمضان محض موسمی نیکی کا مظاہرہ نہیں بلکہ اس اخلاقی نظام کی طرف واپسی کا نام ہے جس کا مطالبہ اسلام ہر وقت کرتا ہے۔اللہ رب العزت قرآنِ مجید میں اارشاد فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘ (البقرہ: 183)۔ مقصد بھوک نہیں بلکہ تقویٰ ہے—وہ باطنی شعور جو انسان کو تنہائی میں بھی گناہ سے روکے رکھتا ہے۔

اس مقدس مہینے میں مساجد ایک نئی رونق اختیار کر لیتی ہیں۔ اللہ کے گھروں میں نمازیوں کی صفیں بھر جاتی ہیں؛ سر پر ٹوپی سجتی ہے، ہاتھوں میں تسبیح گردش کرتی ہے، اور زبان ذکرِ الٰہی سے تر ہو جاتی ہے۔ مگر یہ ظاہری علامات باطنی تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہئیں۔ رمضان انکسار کا مدرسہ، اطاعت کا موسم اور عظمتِ الٰہی کے سامنے انسانی بے بسی کا احساس دلانے کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت و فرقان کی روشن دلیلیں رکھتا ہے‘‘ (البقرہ: 185)۔ پس یہ محض رسومات کا مہینہ نہیں بلکہ رہنمائی اور اخلاقی بیداری کا زمانہ ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے نہایت واضح الفاظ میں فرمایا: ’’جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں‘‘ (صحیح بخاری)۔ ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: ’’روزہ ڈھال ہے‘‘ (بخاری و مسلم)۔ ڈھال بیرونی خطرات سے بچاتی ہے؛ روزہ نفس کی اندرونی خواہشات سے حفاظت کرتا ہے۔ اگر زبان بدستور اذیت پہنچاتی رہے، ہاتھ ظلم کرتے رہیں اور ترازو بے انصافی پر قائم رہے، تو محض بھوک ایک جسمانی مشق کے سوا کچھ نہیں۔

گزشتہ سال بازار کا ایک پریشان کن منظر یاد آتا ہے۔ رمضان سے تین دن پہلے ایک گاہک نے ایک پھل فروش سے پوچھا: ’’آپ کے والد صاحب نظر نہیں آرہے، خیریت تو ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا کہ وہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے تیاری میں مصروف ہیں۔ حالانکہ بازار میں سب جانتے تھے کہ رمضان شروع ہوتے ہی موصوف بلا تردد پھلوں کی قیمتیں بڑھا دیتا ہیں اور جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ تھوک ریٹ بڑھ گئے ہیں۔ یہ طرزِ عمل رمضان کی روح سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ رمضان کا تقاضا ہے کہ ہم آسانی پیدا کریں، دشواری نہیں؛ راحت دیں، استحصال نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے بھی اسی کے برابر اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو‘‘ (ترمذی)۔ رمضان کی روح سخاوت، انصاف اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی ہے۔

اس مہینے میں اللہ کی رحمت بے پایاں ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے (بخاری و مسلم)۔ نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اور علما نے لکھا ہے کہ رمضان میں یہ اضافہ اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ گویا رحمتِ الٰہی اپنی وسعت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے تاکہ راہِ ہدایت واضح ہو جائے۔

اللہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے سختی نہیں بلکہ ہدایت چاہتا ہے۔ رمضان دراصل اخلاقی تربیت کا ایک عملی کورس ہے—ایسا دورانیہ جس میں عادات سنورتی اور کردار نکھرتا ہے۔ انسانی فطرت بتاتی ہے کہ تسلسل عادت کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر تیس دن تک انسان غصہ ضبط کرے، زبان کی حفاظت کرے، امانت ادا کرے اور نماز کی پابندی کرے تو یہ اوصاف اس کی شخصیت کا حصہ بننے لگتے ہیں۔

کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ایک اور رمضان نصیب ہو۔ بہت سے لوگ جو گزشتہ سال ہمارے ساتھ روزہ رکھتے تھے، آج مٹی کے نیچے روزِ حساب کے منتظر ہیں۔ دوبارہ رمضان پانا فضلِ الٰہی کی نشانی اور تجدیدِ عہد کا موقع ہے۔ قرآن ہمیں پکارتا ہے: ’’پس اللہ کی طرف دوڑو‘‘ (الذاریات: 50)۔ رمضان دراصل اسی فرار کا نام ہے—غفلت سے اطاعت کی طرف رجوع۔

آئیے عزم کریں کہ یہ مقدس مہینہ عارضی زینت نہیں بلکہ دائمی تبدیلی کا ذریعہ بنے۔ رمضان میں اختیار کی گئی دیانت تجارت اور پیشے میں بھی برقرار رہے۔ روزے کے دوران دکھایا گیا ضبط گفتار و کردار میں جاری رہے۔ بھوکوں کے لیے جاگا ہوا احساسِ ہمدردی پورے سال زندہ رہے۔ اگر رمضان ہمارے کردار کو اگلے گیارہ مہینوں تک سنوارتا رہے تو ہم نے اس کا مقصد پا لیا۔ ورنہ ہمیں میوا کی وہ نرم سی تنبیہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نے نیکی کو ایک مہینے تک محدود کر دیا، حالانکہ اسے پورے سال کو روشن کرنا تھا۔

قازقستان Previous post پاکستان اور قازقستان کی قومی کورٹ بارز کو پہلی بار “سسٹر بارز” قرار دینے کا اعلان
پشاور Next post مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس آج پشاور میں، رمضان کا پہلا روزہ کل ہونے کا امکان