ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا “بورڈ آف پیس” واشنگٹن میں منعقد، غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر غور

واشنگٹن،یورپ ٹوڈے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ “بورڈ آف پیس” کا طویل انتظار کے بعد پہلا اجلاس جمعرات کو واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں غزہ میں نازک جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں امریکہ کے بعض اہم اتحادی ممالک شریک نہیں ہوئے، کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس فورم کو اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر عالمی تنازعات کے حل کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے NBC News کو بتایا کہ سربراہی اجلاس میں کم از کم 40 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، جن میں کئی سربراہانِ مملکت بھی شامل تھے۔ اجلاس United States Institute of Peace میں منعقد ہوا۔

شرکاء میں ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان اور ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی بھی شامل تھے، جو صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے کا اعلان کریں گے، جس میں بورڈ کے رکن ممالک کی مالی معاونت بھی شامل ہوگی۔ صدر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اب تک پانچ ارب ڈالر سے زائد کے وعدے کیے جا چکے ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے جنہوں نے مالی تعاون کا اعلان کیا ہے۔

اجلاس کے دوران غزہ میں اقوامِ متحدہ کی منظوری سے ایک استحکام فورس کے قیام کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں گی۔ امریکی عہدیدار کے مطابق چند ممالک اس اقدام کے تحت ہزاروں فوجی دستے فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔

ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق اجلاس میں انسانی امداد، غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی، اور بین الاقوامی استحکام فورس سمیت مختلف امور پر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے اجلاس سے قبل خوش امیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے “عظیم ترین رہنما” اس بورڈ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس فورم کو غزہ میں قیامِ امن کی نگرانی کے لیے پیش کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اس کے دائرہ کار کو وسعت دے کر اسے اقوامِ متحدہ طرز کے عالمی تنازعات کے حل کے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا۔

متعدد ممالک بشمول آرمینیا، مصر، ہنگری، پاکستان، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے اس میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کتنے ممالک مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شراکت پر آمادہ ہیں۔

اہم امریکی اتحادی ممالک، جن میں برطانیہ، فرانس، ناروے، سویڈن اور سلووینیا شامل ہیں، نے اس فورم میں شرکت سے گریز کیا ہے۔ بعض ممالک نے اس کے چارٹر میں غزہ کا براہِ راست ذکر نہ ہونے اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے کردار کو متاثر کرنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ویٹیکن نے بھی صدر ٹرمپ کی دعوت مسترد کر دی۔ پوپ لیو چہاردہم نے تشویش ظاہر کی کہ عالمی بحرانوں کے انتظام کی بنیادی ذمہ داری اقوامِ متحدہ پر عائد ہوتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرو لائن لیویٹ نے اس فیصلے کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن کو سیاسی یا متنازع معاملہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

دوسری جانب روس کی ممکنہ شمولیت پر بھی بعض عالمی رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کریملن کو دعوت دی گئی تھی، تاہم روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے روسی خبر رساں ادارے TASS کو بتایا کہ روس پہلے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا، تاہم طویل المدتی مؤقف پر غور جاری ہے۔

زرداری Previous post کراچی کے سولجر بازار میں عمارت گرنے پر صدر آصف علی زرداری کا اظہارِ افسوس، جامع تحقیقات اور مؤثر اقدامات کی ہدایت
پاکستان Next post بھارتی پروازوں پر پابندی برقرار، پاکستان نے فضائی حدود کی بندش میں 23 مارچ تک توسیع کر دی