
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم سے کھلی جنگ کا اعلان، سینیٹ میں قومی یکجہتی کی قرارداد منظور
اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے جمعہ کے روز افغان طالبان رجیم کے ساتھ “ہمہ جہت محاذ آرائی” کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان کھلی جنگ ہوگی۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں لکھا: “اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مسلح افواج نے سرحد پر دشمن کی فائرنگ کو مؤثر کارروائی کے ذریعے خاموش کرا دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی افغان دارالحکومت پر اب تک کی سب سے وسیع بمباری اور 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد جنوبی علاقوں میں پہلی فضائی کارروائی تھی۔
وزیرِ دفاع نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا صبر اب ختم ہو چکا ہے اور افغانستان کی طالبان قیادت کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے کہا، “ہم اپنے ہمسائے کی حیثیت اور صلاحیت سے بخوبی واقف ہیں۔ ہم سمندر پار سے آنے والی فوج نہیں بلکہ اپنی سرزمین کی فوج ہیں اور بھارتی پشت پناہی میں سرگرم عناصر اور افغان جارحیت کو کچلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔”
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان طالبان بھارت کے پراکسی بن گئے ہیں، دہشت گرد عناصر کو پناہ دے رہے ہیں اور انہیں برآمد کر رہے ہیں، جبکہ اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ایوانِ بالا نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں جارحیت اور عسکریت پسندی کے خلاف قومی یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس کے نکات کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایوانِ وفاق کی جانب سے متفقہ قرارداد کی منظوری عوام کی اجتماعی خواہش اور قومی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم مواقع پر پاکستانی قوم ہمیشہ اپنی افواج پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سرحد پار جارحیت کے جواب میں مسلح افواج نے مؤثر اور مضبوط ردعمل دیا، تاہم ضروری حد تک تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ بھی کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرحد پار سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو پہلے بھی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کے مواقع دیے گئے، لیکن اگر جارحیت جاری رہی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت اور سیاسی قیادت قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملات پر عسکری قیادت کے فیصلوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہیں۔
بحث کے دوران سینیٹر علی ظفر نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے علاقائی مکینزم تشکیل دینے کی تجویز پیش کی، جس پر رانا ثناء اللہ نے معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سپرد کرنے کی تجویز دی تاکہ دفترِ خارجہ اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اِن کیمرہ بریفنگ کے بعد فیصلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں دوست ممالک نے مذاکرات کی سہولت فراہم کی، تاہم وہ کوششیں دیرپا نتائج نہ دے سکیں۔ تاہم انہوں نے اس تجویز کو تعمیری قرار دیتے ہوئے مناسب مرحلے پر اس پر تفصیلی غور کی ضرورت پر زور دیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قرارداد کا مرکزی پیغام واضح ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور اپنی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی معاملات کا حل مکالمے سے نکالا جانا چاہیے، تاہم قومی سلامتی کے امور پر اجتماعی عزم ناگزیر ہے۔ وزیراعظم متعدد بار سیاسی مکالمے کی دعوت دے چکے ہیں اور یہ عمل سیکیورٹی معاملات سے علیحدہ جاری رہ سکتا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی مؤقف کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جائے کیونکہ جمہوری سیاست میں اختلاف رائے فطری امر ہے، مگر قومی سلامتی پر یکجہتی سب سے مقدم ہے۔