
امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ، تہران دھماکوں سے گونج اٹھا؛ ایران کی اسرائیل پر میزائلوں سے جوابی کارروائی
تہران،یورپ ٹوڈے: امریکہ اور اسرائیل نے اچانک ایران پر مشترکہ حملہ کر دیا، جس کے بعد دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں متعدد شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ شہر میں افراتفری کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران میں یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا پر اسرائیلی میزائل گرے۔ مزید یہ کہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی سات میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں۔ تہران کے مضافات سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کے بعد ہنگامی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اطلاعات کی ترسیل میں بھی رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔
اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملے شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اور ایک سینئر دفاعی اہلکار کے مطابق ایران میں امریکا کے ساتھ مل کر آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کا منصوبہ کئی ماہ قبل تیار کیا گیا تھا جبکہ حملے کی تاریخ کا تعین ہفتوں پہلے کیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے اور امریکی کارروائیاں فضا اور سمندر سے جاری ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے اور اس کا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔ ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کا انجام اب حملہ آوروں کے اختیار میں نہیں رہا۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے کچھ ہی دیر بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کر دیا۔ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے شہریوں کو فوری طور پر شیلٹرز میں جانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
حملوں کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے جبکہ اسرائیل بھر میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیلی فضائی حدود بھی بند کر دی گئی ہے اور شہریوں کو ایئرپورٹس کا رخ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
علاقائی سطح پر بھی اثرات نمایاں ہوئے ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ کویت نے ایران کے لیے اگلے حکم تک تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔
دریں اثنا قطر میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ امریکی سفارت خانے نے قطر میں مقیم امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اگلے حکم تک محفوظ مقامات پر رہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کر چکے تھے اور جاری مذاکرات میں ایران کے مؤقف پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔ موجودہ پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔