
ویتنام کی معیشت کو نئی رفتار دینے کا فیصلہ، وزیر اعظم کی سرمایہ کاری، برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی ہدایت
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیر اعظم فام منہ چِنہ نے وزارتوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معیشت کے روایتی ترقیاتی محرکات—سرمایہ کاری، برآمدات اور کھپت—کو دوبارہ فعال کریں جبکہ گرین اور ڈیجیٹل تبدیلی سمیت نئے اقتصادی محرکات کو بھی تیزی سے فروغ دیا جائے۔
وزیر اعظم نے بدھ کے روز ہنوئی میں حکومت کے فروری کے باقاعدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کیں۔ یہ اجلاس آن لائن ملک کے 34 صوبوں اور شہروں کے ساتھ منعقد ہوا جس میں 2026 کے پہلے دو ماہ کی معاشی و سماجی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعظم فام منہ چِنہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھنا، مہنگائی کو قابو میں رکھنا اور اہم معاشی توازن کو محفوظ بنانا ہے، جبکہ آئندہ عرصے میں 10 فیصد سے زائد معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ سال کے آغاز ہی سے سرکاری سرمایہ کاری کے فنڈز کی بروقت تقسیم اور استعمال کو تیز کیا جائے اور 2026 کے دوران مختص شدہ سرمایہ کاری کا 100 فیصد خرچ یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیرِ تعمیر منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے اور ویتنام میں بین الاقوامی مالیاتی مرکز کو مؤثر انداز میں فعال بنانے کی بھی ہدایت دی گئی۔
وزیر اعظم نے وزارتوں کو یہ بھی ہدایت دی کہ اس ماہ کے اندر قومی ون اسٹاپ سرمایہ کاری پورٹل کو مکمل کیا جائے اور ریگولیٹڈ ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینج کا آغاز کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل معیشت کو فروغ مل سکے۔
انہوں نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی ٹیرف پالیسیوں اور درآمدات و برآمدات سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مناسب حکمت عملی تیار کی جائے، جبکہ وزارتِ صنعت و تجارت کو توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبہ بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
وزیر اعظم نے مالیاتی پالیسی کے حوالے سے ہدایت دی کہ شرح سود، شرح مبادلہ اور قرضہ جاتی نظام کو لچکدار انداز میں منظم کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل اکٹھا کرنے کی غرض سے سرکاری اور منصوبہ جاتی بانڈز کے اجرا کا بھی جائزہ لے گی جبکہ مقامی حکومتوں کو بلدیاتی بانڈز جاری کرنے کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
حکومت نے 2026 میں ریاستی بجٹ کی آمدن کو 2025 کے مقابلے میں کم از کم 10 فیصد زیادہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیر اعظم نے ملکی کھپت کو بڑھانے کے لیے “ویتنامی صارفین کے سامان کا ہفتہ” اور “ویتنامی مصنوعات کا مہینہ” منانے کی تجویز بھی پیش کی۔ اس کے ساتھ برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے اور پاکستان، خلیجی تعاون کونسل (GCC) اور مرکوسور کے ساتھ نئے آزاد تجارتی معاہدوں کو مارچ میں حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات تیز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں عالمی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے اثرات پر غور کیا گیا۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتی عالمی صورتحال کے پیش نظر فوری اور مؤثر اقدامات کی تیاری ضروری ہے تاکہ معاشی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے ابتدائی دو ماہ میں ویتنام کی معیشت مجموعی طور پر مستحکم رہی۔ اس دوران افراطِ زر تقریباً 3 فیصد رہا جبکہ درآمدات و برآمدات کا مجموعی حجم 155.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22.2 فیصد زیادہ ہے۔
اسی عرصے میں ریاستی بجٹ کی آمدن 601.3 کھرب ویتنامی ڈونگ (تقریباً 22.9 ارب ڈالر) رہی جو سالانہ ہدف کا 23.8 فیصد بنتی ہے۔ فروری میں پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) 54.3 پوائنٹس رہا، جو صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل آٹھ ماہ سے توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اگرچہ معاشی کارکردگی مجموعی طور پر مثبت رہی ہے، تاہم عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال، بڑھتی پیداواری لاگت اور بعض شعبوں کو درپیش مشکلات جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ضروری ہوں گے۔