ویتنام

یورپی یونین ویتنام کا اہم اقتصادی شراکت دار، 560 ملین یورو سرمایہ کاری پیکج کا اعلان

Read Time:3 Minute, 24 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے نائب وزیرِاعظم ہؤ دُک فوک نے کہا ہے کہ یورپی یونین (EU) ویتنام کے اہم ترین اقتصادی شراکت داروں میں شامل ہے اور تجارت، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی میں اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

وہ منگل کے روز ہنوئی میں منعقدہ یورپی یونین–ویتنام بزنس و سرمایہ کاری فورم سے خطاب کر رہے تھے، جس کا عنوان تھا “گلوبل گیٹ وے اسٹریٹیجی: پائیدار مستقبل کے لیے سرمایہ کاری تعاون”۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات میں نمایاں وسعت آئی ہے۔

تقریب کا انعقاد یورپی یونین کے وفد برائے ویتنام، وزارتِ خزانہ کے تحت فارن انویسٹمنٹ ایجنسی اور یورپی چیمبر آف کامرس (یوروچیم) کے اشتراک سے کیا گیا، جس میں حکومتی اداروں، مالیاتی تنظیموں اور کاروباری حلقوں کے تقریباً 500 نمائندگان نے شرکت کی۔

نائب وزیرِاعظم نے یورپی یونین–ویتنام آزاد تجارتی معاہدے (EVFTA) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملا ہے، تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یورپی کمپنیوں کی ویتنام میں موجودگی مضبوط ہوئی ہے۔

انہوں نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے، منصفانہ تجارت کے فروغ اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، اور یورپی یونین کو ایک قابلِ اعتماد طویل المدتی شراکت دار قرار دیا۔

ہؤ دُک فوک نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ ویتنام کو گرین فنانس تک رسائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری کے فروغ میں مزید تعاون فراہم کرے، خاص طور پر قابلِ تجدید توانائی، گرین و ڈیجیٹل معیشت، سیمی کنڈکٹرز اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔

فورم کے شرکاء کے مطابق یہ پلیٹ فارم نہ صرف پالیسی مکالمے کا ذریعہ ہے بلکہ ترجیحی شعبوں میں عملی منصوبوں کی راہ ہموار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

اس موقع پر یورپی یونین نے ویتنام کے لیے 560 ملین یورو (تقریباً 650 ملین ڈالر) کے سرمایہ کاری پیکج کا اعلان کیا، جو پائیدار ٹرانسپورٹ اور صاف توانائی کے منصوبوں پر مرکوز ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، معاشی ترقی کو فروغ دینا اور آلودگی میں کمی لانا ہے۔

یورپی کمشنر برائے بین الاقوامی شراکت داری جوزف سیکلا نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری یورپی یونین اور ویتنام کے درمیان تعاون کے عملی نتائج کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ یورپی سرمایہ کاری بینک کی نائب صدر نکولا بیئر نے بتایا کہ بینک ویتنام میں صاف توانائی اور جدید ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے ٹیک کوم بینک کے ساتھ 200 ملین یورو کے معاہدے کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت نجی شعبے خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں مالی سہولت فراہم کی جائے گی۔

یورپی یونین نے گلوبل گیٹ وے اقدام کے تحت 40 ملین یورو کے سستین ایبل ٹرانسپورٹ فیسلٹی کا بھی آغاز کیا، جس کے ذریعے ویتنام میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں، خصوصاً ریلوے، اندرونی آبی راستوں اور شہری نقل و حرکت کے شعبوں میں ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔

توانائی کے شعبے میں بھی یورپی یونین ویتنام کی کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی میں معاونت جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے تحت 230 ملین یورو کے قرضہ معاہدے بیک آئی پمپڈ اسٹوریج ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے کیے گئے ہیں۔

فورم کے دوران یورپی اور ویتنامی کمپنیوں کے درمیان ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، ڈیجیٹل ہیلتھ اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔

یوروچیم نے اس موقع پر اپنی 17ویں وائٹ بک بھی جاری کی، جس میں پالیسی سفارشات پیش کی گئی ہیں تاکہ ویتنام میں شفاف، مستحکم اور مؤثر کاروباری ماحول کو فروغ دیا جا سکے اور اعلیٰ معیار کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو مزید راغب کیا جا سکے۔

گلوبل گیٹ وے یورپی یونین کا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے خلا کو کم کرنا اور ڈیجیٹل، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں صاف، محفوظ اور جدید روابط کو فروغ دینا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post لائی بے قدراں نال یاری
سونے Next post سونے کی قیمت میں تاریخی کمی، ملکی تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ