خوجالی

بین الاقوامی سیاحوں کا خوجالی نسل کشی یادگار کا دورہ، تاریخی حقائق سے آگاہی

Read Time:1 Minute, 12 Second

خوجالی، یورپ ٹوڈے: قراباغ اور مشرقی زنگزور کے دورے کے سلسلے میں بین الاقوامی سیاحوں نے خوجالی نسل کشی یادگار کا دورہ کیا، جہاں انہیں خوجالی سانحہ اور یادگار کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سیاحوں کو بتایا گیا کہ 25 اور 26 فروری 1992 کی درمیانی شب آرمینیائی فوجی یونٹس نے، سابق سوویت فوج کی 366ویں موٹرائزڈ رائفل رجمنٹ کی شرکت کے ساتھ، خوجالی میں ایک ہولناک نسل کشی کا ارتکاب کیا۔ اس سانحے میں 613 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 63 بچے، 106 خواتین اور 70 بزرگ شامل تھے۔

بریفنگ کے دوران مزید بتایا گیا کہ اس فوجی جارحیت کے نتیجے میں 8 خاندان مکمل طور پر ختم ہو گئے، 25 بچے دونوں والدین سے محروم ہو گئے جبکہ 132 بچوں نے اپنے ایک والدین کو کھو دیا۔

خوجالی نسل کشی یادگار ان متاثرین کی یاد کو زندہ رکھنے، آئندہ نسلوں تک تاریخی حقائق پہنچانے اور قومی یادداشت کو محفوظ رکھنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران بین الاقوامی سیاحتی کلبوں نے قراباغ اور مشرقی زنگزور کے 15 دورے کیے، جبکہ موجودہ دورہ اس سلسلے کی 16ویں کڑی ہے۔

یہ دورہ "ڈارک ٹورزم” کے فروغ کے تناظر میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد آزاد کرائے گئے علاقوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا اور وہاں جاری وسیع پیمانے پر تعمیر و بحالی کے اقدامات کو اجاگر کرنا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی تعمیرات و ہاؤسنگ شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے عملی حکمتِ عملی بنانے کی ہدایت
شہباز شریف Next post وزیرِاعظم شہباز شریف کی سینیٹر شیری رحمٰن کے گھر آمد، بیٹی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار