
بلوچستان میں ریلوے سروسز معطل، مسافروں کو متبادل انتظامات کی ہدایت
کوئٹہ، یورپ ٹوڈے: بلوچستان میں ریلوے حکام نے مسافروں کے لیے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے جمعہ 27 مارچ کو صوبے بھر میں تمام ٹرین سروسز عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ہنگامی تکنیکی مرمت اور ریلوے ٹریک کی دیکھ بھال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
اعلان کے مطابق پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد میں روک کر واپس روانہ کر دیا جائے گا، جبکہ کوئٹہ سے پشاور کے لیے کل صبح روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس بھی نہیں چلے گی۔ اس فیصلے سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافر متاثر ہوں گے جو بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان سفر کے لیے اس سروس پر انحصار کرتے ہیں۔
دیگر ٹرین سروسز، جن میں کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل اور چمن پسنجر ٹرین شامل ہیں، پہلے ہی معطل کی جا چکی تھیں، جس کے باعث آج بلوچستان کی ریلوے لائنوں پر مکمل خاموشی چھائی رہنے کا امکان ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معطلی صرف ایک دن کے لیے ہے اور مرمت کا کام مکمل ہوتے ہی ٹرین سروسز فوری طور پر بحال کر دی جائیں گی۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 27 مارچ کے لیے اپنے سفر کے متبادل انتظامات کریں۔
متاثرہ مسافروں کے لیے ریلوے حکام نے ریلیف کے طور پر مکمل ٹکٹ ریفنڈ کا اعلان بھی کیا ہے۔ 27 مارچ کی ٹرینوں کے لیے بک کیے گئے تمام ٹکٹ بغیر کسی دشواری کے منسوخ کروا کر مکمل رقم واپس حاصل کی جا سکتی ہے، تاکہ مسافروں کو مالی نقصان نہ ہو۔
یہ فیصلہ خاص طور پر بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کے لیے باعثِ تشویش ہے، جہاں ٹرین سفر سب سے سستا اور نسبتاً محفوظ ذریعۂ نقل و حمل سمجھا جاتا ہے۔ جعفر ایکسپریس، بولان میل اور چمن پسنجر جیسی سروسز مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
اگرچہ یہ معطلی عارضی ہے، تاہم یہ بلوچستان کے پرانے ریلوے انفراسٹرکچر کی مستقل اور جامع مرمت کی فوری ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے نے کہا کہ مسافروں کی سہولت اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی ٹریک کی مرمت مکمل ہوگی، ٹرینیں معمول کے مطابق چلنا شروع ہو جائیں گی۔
مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل ریلوے حکام یا قریبی اسٹیشن سے تازہ معلومات حاصل کریں۔