کویت

کویت پر حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کا اظہارِ یکجہتی: وزیرِاعظم شہباز شریف

Read Time:2 Minute, 6 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز کویت پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کویتی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات وزیرِاعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان کے مطابق وزیرِاعظم نے کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد الصباح سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ وزیرِاعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھی کویتی قیادت کو آگاہ کیا۔

کویتی ولی عہد نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے وزیرِاعظم کے کردار کی توثیق کی۔ انہوں نے بحران کے دوران پاکستان کی حمایت اور حالیہ اظہارِ یکجہتی کے پیغام پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی خواہش ظاہر کی کہ حالات بہتر ہونے پر وہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

دریں اثنا، کویت نے تصدیق کی ہے کہ اس کی مرکزی تجارتی بندرگاہ شویخ پورٹ کو جمعہ کی صبح ایک "دشمنانہ” ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مادی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کویت پورٹس اتھارٹی کے مطابق بغیر پائلٹ طیاروں نے بندرگاہ کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد فوری طور پر ہنگامی اقدامات کیے گئے۔

شویخ پورٹ، جو کویت سٹی کے قریب واقع ہے، ملک کی اہم ترین بحری تجارتی گزرگاہ ہے جہاں سامان کی ترسیل، ذخیرہ اور تقسیم کے بڑے پیمانے پر امور انجام دیے جاتے ہیں۔

قبل ازیں، ایک اور ڈرون حملے کے بعد کویت کی مینا الاحمدی آئل ریفائنری میں بھی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کیے گئے مشترکہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے، اور ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے عالمی سطح پر سکیورٹی، توانائی کے ڈھانچے اور معاشی استحکام کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا میں توانائی بچت اقدامات، پارلیمانی عمارتوں میں بجلی کے استعمال میں کمی کا فیصلہ
ترکمانستان Next post ترکمانستان اور یورپی یونین کے درمیان ماحولیاتی تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال