
امریکہ کا ایران سے ممکنہ انخلا: ڈونلڈ ٹرمپ کا دو سے تین ہفتوں میں فیصلے اور معاہدے کا عندیہ
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل جائے گا، جبکہ اس سے قبل کسی ممکنہ معاہدے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اپنے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جلد ہی ایران سے انخلا کرے گا اور دعویٰ کیا کہ ایران میں پہلے ہی رجیم تبدیل ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر فرانس اور دیگر چند ممالک تیل اور گیس حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں آبنائے ہرمز کا رخ کرنا ہوگا، اور ان کے بقول یہ ممالک اپنی حفاظت خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعات سے امریکا کا کوئی تعلق نہیں ہوگا اور دیگر ممالک کو اپنی سیکیورٹی خود یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ “کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کی حفاظت کریں۔”
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان پر بادشاہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ چار برسوں میں ان کے مخالفین نے کیا اقدامات کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مخالفین کھلی سرحدوں کے حامی ہیں جس کے نتیجے میں مجرم عناصر امریکا میں داخل ہوئے، اور دعویٰ کیا کہ تقریباً 25 ملین افراد کو ملک میں داخل ہونے دیا گیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور وہاں کئی ترقیاتی کام مکمل کیے گئے ہیں جن کے اخراجات بڑی کمپنیوں اور امیر افراد نے برداشت کیے۔