پاکستان

جے ڈی وینس اسلام آباد مذاکرات کے لیے روانہ، امریکہ-ایران مذاکرات سے قبل امید کا اظہار

Read Time:2 Minute, 18 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ اہم مذاکرات سے قبل مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان روانہ ہو رہے ہیں تاکہ متوقع “اسلام آباد مذاکرات” میں شرکت کر سکیں۔

روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “ہم مذاکرات کے منتظر ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ مثبت ہوں گے”، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیش رفت کا انحصار ایران کی سنجیدہ اور مخلصانہ شرکت پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح ہدایات کے تحت، کسی بھی غیر سنجیدہ رویے کا سخت جواب دے گی۔

پاکستان ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں واشنگٹن اور تہران کے اعلیٰ سطحی وفود ایک ایسے چھ ہفتے طویل تباہ کن تنازع کے بعد جمع ہو رہے ہیں جس میں بھاری جانی نقصان ہوا اور عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ان کے ہمراہ اہم نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ ایرانی وفد کی سربراہی محمد باقر قالیباف کریں گے، جن کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔

مذاکرات سے قبل اسلام آباد میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں اہم شاہراہوں کی بندش، اضافی نفری کی تعیناتی اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔ حکام کے مطابق مذاکرات ایک محفوظ اور خفیہ مقام پر منعقد ہوں گے۔

حالیہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد جوابی کارروائیوں کے تناظر میں اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دیں، جن میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس بھی شامل تھا جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔

اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی برقرار ہے، جس کا مقصد بڑی جھڑپوں کو روکنا اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں کو دوبارہ کھولنا ہے۔ اگرچہ دونوں فریقین نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے، تاہم اہم امور پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔

جنگ بندی کی بنیاد ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی تجویز پر ہے، جسے واشنگٹن نے مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد قرار دیا ہے۔ اس فریم ورک میں عدم جارحیت، پابندیوں میں نرمی، سمندری سلامتی اور خطے میں کشیدگی میں کمی جیسے نکات شامل ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات سے توقع کی جا رہی ہے کہ عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار اور طویل المدتی امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے گا، جس میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
امریکہ Previous post اسلام آباد مذاکرات 2026: ایران اور امریکہ کے وفود اور صحافیوں کے لیے ویزا فری سفری سہولت کا اعلان
زرداری Next post یومِ دستور: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی پیغام، آئین کو قومی وحدت اور ریاستی استحکام کی بنیاد قرار