
ترک صدر اردوان کی اسرائیل کو سخت وارننگ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
استنبول، یورپ ٹوڈے: رجب طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو ترکی اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ اگر پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالثی کا کردار ادا نہ کر رہا ہوتا تو ترکی پہلے ہی اسرائیل کے خلاف کارروائی کر چکا ہوتا۔
انہوں نے کہا، “جس طرح ہم لیبیا اور قرہ باغ میں داخل ہوئے، ہم اسرائیل میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ ایسا نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، تاہم اس کے لیے طاقت اور اتحاد درکار ہوگا۔”
صدر اردوان نے اسرائیلی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے دن بھی اسرائیل نے سینکڑوں معصوم لبنانی شہریوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ “خون اور نفرت میں اندھے ہو چکے ہیں۔”
ترک صدر کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع عالمی سطح پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات نہ صرف سفارتی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بھی بنا سکتے ہیں، جس کے عالمی امن و استحکام پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔