علییف

صدر الہام علییف اور سلوواک صدر پیٹر پیلیگرینی نے باش گرواند میں نئے اسکول کا سنگِ بنیاد رکھ دیا

Read Time:3 Minute, 3 Second

آغدام، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی نے منگل کے روز ضلع آغدام کے باش گرواند گاؤں میں جاری تعمیرِ نو کے منصوبوں کا جائزہ لیا اور مشترکہ طور پر میلان راستیسلاو شٹیفانک سیکنڈری اسکول کا سنگِ بنیاد رکھا، جو 840 طلبہ کی گنجائش رکھنے والا جدید تعلیمی ادارہ ہوگا۔

صدر پیٹر پیلیگرینی آذربائیجان کے سرکاری دورے پر ہیں، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے باش گرواند گاؤں کا دورہ کیا اور علاقے میں جاری بڑے تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر آذربائیجان کے صدر کے آغدام، فضولی اور خواجہ وند اضلاع کے لیے خصوصی نمائندے امین حسینوف نے دونوں صدور کو باش گرواند میں جاری وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو کے کاموں سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ باش گرواند گاؤں آغدام شہر کے مرکز سے تقریباً 18 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور کئی برسوں تک آرمینیائی قبضے میں رہنے کے بعد 20 نومبر 2020 کو آزاد کرایا گیا تھا۔ صدر الہام علییف نے 24 دسمبر 2023 کو گاؤں کی تعمیرِ نو کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔

حکام نے دونوں رہنماؤں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گاؤں میں جدید سماجی ڈھانچے کی تعمیر جاری ہے، جس میں انتظامی و خدماتی عمارتیں، طبی مرکز، تعلیمی ادارے اور دیگر عوامی سہولیات شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت ایک کثیر المقاصد انتظامی کمپلیکس، سیکنڈری اسکول اور کنڈرگارٹن بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

منصوبے میں 35 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ مواصلاتی نظام، بجلی، قدرتی گیس، پینے کے پانی اور سیوریج نیٹ ورک کی تنصیب بھی شامل ہے، جبکہ توانائی کے مؤثر اور پائیدار استعمال کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع بھی اختیار کیے جا رہے ہیں۔

دونوں صدور کو بتایا گیا کہ میلان راستیسلاو شٹیفانک سیکنڈری اسکول تین ہیکٹر رقبے پر تعمیر کیا جائے گا، جہاں 35 کلاس رومز، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی لیبارٹریاں، فوجی تربیتی سہولت، لائبریری، اور فزکس، حیاتیات اور کیمسٹری کی خصوصی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ اسکول میں آڈیٹوریم، اسپورٹس ہال، کیفیٹیریا اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ شمسی توانائی کے حصول کے لیے سولر پینلز بھی نصب کیے جائیں گے۔

اسکول کے احاطے میں دوڑ کے ٹریک کے ساتھ کھیل کا میدان، بچوں کے لیے پلے ایریاز، تفریحی مقامات اور سرسبز و شاداب علاقے بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ طلبہ اور مقامی آبادی دونوں مستفید ہو سکیں۔

بریفنگ کے بعد صدر الہام علییف اور صدر پیٹر پیلیگرینی نے مشترکہ طور پر اسکول کا سنگِ بنیاد رکھا۔ یہ تعلیمی ادارہ سلوواکیہ کی جانب سے آذربائیجان کے لیے تحفے کے طور پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ سلوواک کمپنیاں باش گرواند گاؤں کی مجموعی تعمیرِ نو میں بھی حصہ لے رہی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے گاؤں میں مکمل ہونے والے ایک نئے رہائشی مکان کا دورہ کیا اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔

تقریباً 480 ہیکٹر رقبے پر محیط باش گرواند گاؤں کو دو مراحل میں ترقی دی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں 200 ہیکٹر سے زائد رقبے پر 851 علیحدہ رہائشی مکانات تعمیر کیے جائیں گے، جہاں تقریباً 3,703 افراد کو آباد کیا جائے گا۔ رہائشی منصوبے میں 170 دو کمروں، 417 تین کمروں، 145 چار کمروں اور 119 پانچ کمروں پر مشتمل مکانات شامل ہیں۔

باش گرواند کی تعمیرِ نو آذربائیجان کی ان وسیع کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت 2020 کے تنازع کے بعد آزاد کرائے گئے علاقوں کو دوبارہ آباد اور ترقی دی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ انفراسٹرکچر، تعلیم اور ترقیاتی تعاون کے شعبوں میں آذربائیجان اور سلوواکیہ کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
مراکش Previous post مراکش اور فرانس کے تعلقات تاریخی نئے مرحلے میں داخل، شاہ محمد ششم کا اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی تعاون اور عالمی ترقیاتی ایجنڈے کے مؤثر نفاذ پر زور