
اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں ترکمانستان کا 2030 پائیدار ترقیاتی ایجنڈے پر بھرپور عملدرآمد کے عزم کا اعادہ
نیویارک، یورپ ٹوڈے: ترکمانستان نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز، نیویارک میں اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ہائی لیول پولیٹیکل فورم برائے پائیدار ترقی (HLPF) میں شرکت کرتے ہوئے 2030 پائیدار ترقیاتی ایجنڈے (SDGs) کے اہداف کے حصول کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔
15 جولائی 2026 کو ترکمانستانی وفد نے ECOSOC کے اعلیٰ سطحی عمومی مباحثے میں شرکت کی، جس کا موضوع "بہتر نتائج کا حصول: 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف کے لیے فوری اور انقلابی اقدامات میں تیزی” تھا۔
فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترکمانستانی وفد کے سربراہ پرہات یاغشییف نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کے ساتھ ہمہ جہت تعاون کا فروغ ترکمانستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امن، استحکام اور سلامتی پائیدار ترقی اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے کامیاب نفاذ کے لیے ناگزیر بنیادیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ترکمانستان نے 2030 ایجنڈے کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جہاں SDGs کے 85 فیصد اہداف کو قومی اور شعبہ جاتی ترقیاتی پروگراموں میں شامل کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق ملک نے 131 قومی اہداف اور 175 اشاریے بھی منظور کیے ہیں تاکہ ان اہداف پر عملدرآمد کی مؤثر نگرانی کی جا سکے۔
ترکمانستان نے اپنے بیان میں ماحولیاتی تحفظ، آبی وسائل کے پائیدار انتظام، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور صحرائی پھیلاؤ کے خاتمے کو خصوصی اہمیت دی۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ پانی سے متعلق تمام مسائل کا حل بین الاقوامی قانون کے تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق اور خطے کے تمام ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نکالا جانا چاہیے۔
وفد نے ترکمانستان کے صدر کی جانب سے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے صحرائی پھیلاؤ کے انسداد کے علاقائی مرکز کے قیام کی تجویز کو بھی اجاگر کیا، جسے علاقائی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
ترکمانستان نے سبز معیشت کے فروغ کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے استعمال میں توسیع، بڑے توانائی منصوبوں پر عملدرآمد اور میتھین گیس کے اخراج میں کمی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
وفد نے آرکاداغ شہر کو خصوصی طور پر نمایاں کرتے ہوئے اسے وسطی ایشیا کا پہلا اسمارٹ شہر قرار دیا، جو پائیدار ترقی، شمولیت اور ماحولیاتی استحکام کے اصولوں پر تعمیر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ آرکاداغ کو او ایس سی ای (OSCE) کے پائیدار اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط شہروں کے منصوبے میں شامل کیا گیا ہے اور اسے متعدد بین الاقوامی اعزازات اور اسناد بھی حاصل ہو چکی ہیں۔
ترکمانستان نے بین الاقوامی نقل و حمل کے روابط کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک مشرق۔مغرب اور شمال۔جنوب راہداریوں، بشمول ٹرانس کیسپین روٹ، کے تحت بڑے ٹرانسپورٹ اور ٹرانزٹ منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے، جو عالمی تجارت کے فروغ اور خشکی میں گھرے ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
فورم کے موقع پر ترکمانستانی وفد رضاکارانہ قومی جائزہ رپورٹس (Voluntary National Reviews – VNRs) کی تیاری سے متعلق عالمی بہترین تجربات کا بھی جائزہ لے رہا ہے، تاکہ 2027 میں اقوام متحدہ میں پیش کیے جانے والے ترکمانستان کے تیسرے رضاکارانہ قومی جائزے کی مؤثر تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔