
صدر امام علی رحمان نے تاجکستان میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام کی جدیدکاری کے عزم کا اعادہ کیا
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے ملک میں قانون کی حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے، عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوام کو انصاف تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دارالحکومت دوشنبہ میں وزارتِ انصاف کی نئی مرکزی عمارت کا افتتاح کیا۔
14 جولائی کو افتتاحی تقریب کے بعد صدر رحمان نے وزارتِ انصاف کی قیادت اور ملازمین سے ملاقات کی اور جدید سہولیات سے آراستہ نئی عمارت کی تکمیل پر انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے اس عمارت کو ریاست کی جانب سے قانونی نظام کی ترقی اور سرکاری ملازمین کے لیے بہتر اور سازگار کام کے ماحول کی فراہمی کے عزم کی علامت قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر امام علی رحمان نے کہا کہ وزارتِ انصاف اور اس کے ادارے شہریوں کے آئینی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی کے فروغ اور ملک بھر میں انصاف کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ انصاف کی نئی عمارت محض ایک انتظامی مرکز نہیں بلکہ قانون، انصاف اور قومی آزادی کے استحکام کے احترام کی علامت ہے۔
صدر رحمان نے تاجکستان کی قدیم ریاستی اور قانونی روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اسلاف نے انصاف، قانون کی بالادستی اور قانونی ثقافت جیسے آفاقی انسانی اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے سائرس اعظم (کوروش اعظم) کو انصاف، رواداری اور انسانی حقوق کے احترام کی عالمی علامت قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
صدر نے یونیسکو کی جانب سے تاجکستان کی پیش کردہ قرارداد "سائرس سلنڈر: انسانی حقوق اور ثقافتی تنوع کا ابتدائی منشور” کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قومی فخر کا باعث قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ملک میں قومی ریاستی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور قانونی نظام کو جدید بنانے کے لیے جامع اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق آزادی کے دور میں 33 شہروں اور اضلاع میں وزارتِ انصاف کی جدید عمارتیں تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ مزید پانچ اضلاع میں انتظامی عمارتوں کی مکمل تزئین و آرائش کی گئی ہے۔
صدر نے ای گورننس کے فروغ، مرکزی قانونی معلوماتی ڈیٹا بیس کے قیام، سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، نوٹری اور سول رجسٹریشن خدمات کی جدیدکاری کو حکومت کی اہم کامیابیوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے شفافیت میں اضافہ، عوام کو سرکاری خدمات تک آسان رسائی اور سماجی انصاف کے فروغ میں مدد ملی ہے۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ وزارتِ انصاف کی ذمہ داری صرف قوانین کا نفاذ نہیں بلکہ معاشرے میں قانونی شعور اور قانونی ثقافت کو فروغ دینا بھی ہے۔
صدر رحمان نے کہا، "قانون کی حکمرانی ریاستی استحکام کی بنیاد، سماجی انصاف کی ضمانت اور عوام کی پُرامن زندگی کے لیے ناگزیر شرط ہے۔” انہوں نے وزارتِ انصاف کو ہدایت کی کہ عوام میں قانونی آگاہی بڑھانے کے پروگرام مزید مؤثر اور وسیع پیمانے پر جاری رکھے جائیں۔
اپنے خطاب میں صدر نے شعبۂ انصاف کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے موجودہ خامیوں کے ازالے کے لیے متعدد اصلاحات کا اعلان کیا۔ انہوں نے وزارت کو ہدایت دی کہ حکومت کو پیش کیے جانے والے مسودہ قوانین کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کیا جائے اور قانون سازی میں بین الاقوامی بہترین تجربات سے استفادہ کیا جائے۔
صدر نے بین الاقوامی قانون، عوامی انجمنوں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے شعبوں میں اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کی کمی دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے انصاف کے اداروں کو ہدایت کی کہ موبائل قانونی خدمات اور عوامی آگاہی مہمات کو مزید وسعت دی جائے تاکہ شہری اپنے قانونی حقوق سے بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں اور تنازعات کا مؤثر حل حاصل کر سکیں۔
صدر رحمان نے محکمہ نفاذِ سزائے قید کو ہدایت کی کہ داخلی نگرانی، افرادی قوت کے انتظام، عملی طریقہ کار اور جیلوں کی سکیورٹی کا جامع جائزہ لیا جائے، جبکہ بدعنوانی اور جیلوں میں ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے تاجکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر منظور کیے گئے نئے قانونِ عام معافی (Amnesty Law) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون حکومت کی انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسی کا مظہر ہے، جس کے ذریعے اہل قیدیوں کو اصلاح اور معاشرے میں دوبارہ مثبت کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
صدر نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ عام معافی کے قانون پر مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور انصاف کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اس عمل میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی سختی سے روک تھام کی جائے۔
انہوں نے مستقبل میں قانونی نظام کی مزید جدیدکاری کے لیے نوٹری خدمات، سول رجسٹریشن اور قانونی خدمات کی فراہمی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال پر زور دیا۔ ساتھ ہی وزارتِ انصاف کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کریں، بین الاقوامی قانون کا گہرا مطالعہ کریں اور کم از کم دو غیر ملکی زبانوں پر عبور حاصل کریں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر صدر امام علی رحمان نے وزارتِ انصاف کے تمام افسران اور ملازمین پر زور دیا کہ وہ دیانتداری، ذمہ داری اور خلوص کے ساتھ تاجکستان کے عوام کی خدمت جاری رکھیں۔
تقریب کے اختتام پر صدر امام علی رحمان، وزیرِ انصاف مظفر عاشوریون اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلیٰ حکام کے درمیان سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس کے دوران صدر نے ملک کے نظامِ انصاف کو مزید مؤثر، شفاف اور مضبوط بنانے کے لیے اضافی ہدایات اور سفارشات جاری کیں۔