
صدر مملکت کا عالمی یوم اقوامِ مقامی پر مقامی آبادیوں کے حقوق، ثقافت اور روایات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے مقامی آبادیوں کے حقوق، ثقافت، روایات اور فلاح و بہبود کے احترام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس امر کی حمایت کی ہے کہ ان کے روایتی علم کا احترام کیا جائے، ان کی آواز سنی جائے اور ان کی برادریوں کو باوقار اور محفوظ زندگی گزارنے کے لیے درکار مواقع اور سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔
عالمی یوم اقوامِ مقامی (9 اگست 2026) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر عالمی یوم اقوامِ مقامی منا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں مقامی آبادیوں کی خدمات اور کردار کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اس علم، روایات اور طور طریقوں کو تسلیم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہیں انہوں نے نسل در نسل محفوظ اور منتقل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی علم کا ان برادریوں، ان کے ماحول اور طرزِ زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ اس علم نے ثقافتی روایات کو برقرار رکھنے اور فطرت، صحت اور ماحول سے متعلق معلومات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علم کا احترام ثقافتی تنوع کے تحفظ اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے مفید بنانے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا بھرپور ثقافتی تنوع کالاش اور شمالی پہاڑی علاقوں میں آباد مختلف اقوام سمیت متعدد مقامی برادریوں پر مشتمل ہے۔ یہ ثقافتی ورثہ گلگت سے گوادر اور میدانی علاقوں سے لے کر چولستان اور تھر کے صحراؤں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان برادریوں کی زبانوں، روایات اور علمی نظام نے صدیوں سے قومی ورثے کو مالا مال کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فطرت، اجتماعی صحت اور پائیدار طرزِ زندگی سے متعلق ان برادریوں کی گہری سمجھ بوجھ استقامت اور دانش کی ایسی میراث کی عکاسی کرتی ہے جس کا اعتراف اور تحفظ ضروری ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کا آئین قانون کے سامنے مساوات اور مساوی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ آئین ایسے شہریوں کے اس حق کو بھی تسلیم کرتا ہے جو کسی مخصوص زبان، رسم الخط یا ثقافت کے حامل ہوں کہ وہ اپنی زبان، رسم الخط اور ثقافت کو محفوظ اور فروغ دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان حقوق کے تحفظ اور تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ رواں سال عالمی یوم اقوامِ مقامی کا موضوع "مقامی دائیوں کو خراجِ تحسین: زندگی اور فلاح و بہبود کا تحفظ” مقامی دائیوں کے نگہداشت فراہم کرنے والے اور روایتی علم کی امین کے طور پر اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی دائیوں کی خدمات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والے علم کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ماؤں، نومولود بچوں اور خاندانوں کی صحت و فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ موضوع ان برادریوں کے لیے بھی عملی اہمیت رکھتا ہے جہاں صحت کی سہولیات تک رسائی مشکل ہے۔ دور دراز اور جغرافیائی اعتبار سے دشوار علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے قابلِ اعتماد اور ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش نگہداشت ان کے خاندانوں کے لیے نمایاں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ دائیوں کے روایتی علم اور کردار کو تسلیم کرنا محفوظ، باوقار اور احترام پر مبنی طبی نگہداشت کے فروغ کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2005 میں یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے کنونشن کی توثیق کی تھی، جو ان علوم، مہارتوں، روایات اور طور طریقوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے جنہیں برادریاں نسل در نسل منتقل کرتی ہیں۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان نے 2022 میں ثقافتی اظہار کے تنوع کے تحفظ اور فروغ سے متعلق یونیسکو کنونشن کی بھی توثیق کی۔ یہ عالمی معاہدوں کے حوالے سے پاکستان کے ان عزم کی عکاسی کرتے ہیں جن کا مقصد ثقافتی تنوع کا تحفظ اور زندہ ثقافتی روایات کو محفوظ رکھنا ہے۔