آذربائیجان

آذربائیجان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

Read Time:2 Minute, 11 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 8 اگست کو ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں علاقائی امن، دوطرفہ تعلقات اور آذربائیجان-امریکا اسٹریٹجک شراکت داری کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گفتگو کے دوران دونوں صدور نے واشنگٹن سمٹ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی موجودگی میں واشنگٹن پیس سمٹ کے دوران دستخط کیے گئے مشترکہ اعلامیے اور آذربائیجان و آرمینیا کے درمیان بین الریاستی تعلقات کے قیام سے متعلق معاہدے کے ابتدائی متن پر دستخط نے خطے میں تنازع کے خاتمے اور پائیدار امن کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔

صدر الہام علیوف نے واشنگٹن پیس سمٹ کی میزبانی اور امن کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے بھی امن عمل میں صدر علیوف کے کردار کو بھرپور سراہا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران خطے میں امن و استحکام برقرار رہا اور ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جو قائم شدہ امن کو نقصان پہنچا سکے۔

دونوں صدور نے آذربائیجان اور آرمینیا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کا بھی خیرمقدم کیا، جن میں آذربائیجان کی پٹرولیم مصنوعات کی آرمینیا کو برآمد، آذربائیجان کے راستے آرمینیا تک مال برداری اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا آغاز شامل ہے۔

بات چیت میں TRIPP منصوبے کی علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے میں اہمیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے نوٹ کیا کہ آذربائیجان میں منصوبے سے متعلق ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر پر کام تکمیل کے قریب ہے، جبکہ امید ظاہر کی کہ آرمینیا میں بھی منصوبے کی تعمیر جلد شروع ہوگی۔

دونوں صدور نے دوطرفہ ایجنڈے کے مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور آذربائیجان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری سے متعلق دستاویز پر دستخط کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ آذربائیجان-امریکا تعلقات ایک نئے اور بلند تر معیار تک پہنچ چکے ہیں اور انہیں اسٹریٹجک حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مطابق یہ شراکت داری وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

صدر الہام علیوف نے آذربائیجان کو جی20 میں شرکت کی دعوت دینے پر بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور اسے آذربائیجان کے ساتھ امریکا کے دوستانہ رویے کا مظہر قرار دیا۔

دونوں صدور نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آذربائیجان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مستقبل میں بھی کامیابی کے ساتھ مزید فروغ پاتی رہے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اقوام متحدہ Previous post اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی صدر امام علی رحمان کو بین الاقوامی امن کے فروغ کے عزم پر مبارکباد
آبادیوں Next post صدر مملکت کا عالمی یوم اقوامِ مقامی پر مقامی آبادیوں کے حقوق، ثقافت اور روایات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ