شہباز شریف

سانحہ پمز: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس، 8 افراد فوری معطل، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی منظوری

Read Time:2 Minute, 24 Second

لاہور، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پمز واقعے سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کی نشاندہی پر 8 افراد کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ و فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی منظوری دے دی گئی۔

وزیراعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی، جس پر انہوں نے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ اعلامیے کے مطابق معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، ڈاکٹر نوشیلہ امجد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان شامل ہیں۔

سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرحمان بھی معطل کیے جانے والوں میں شامل ہیں، جبکہ پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر اور ڈاکٹر اویس شاہ کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی گئی ہے۔

اجلاس میں پمز واقعے کے دوران ایک بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے ستارۂ خدمت دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ متاثرہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون سیکیورٹی گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی، جبکہ ہٹائے گئے افسران و اہلکاروں کی جگہ نئے افراد کی فوری اور بیک وقت تعیناتی کا حکم بھی دیا۔ تحقیقاتی رپورٹ وزارتِ قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ پمز واقعے کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور انہیں مثالی سزا دلوائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک انتہائی اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمزدہ ہے۔ ان کے والدین کے ساتھ ان سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں۔

اجلاس میں واقعے کے وقت کی تقریباً دو منٹ پر محیط سی سی ٹی وی ویڈیو بھی پیش کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پمز میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تفصیلی ایس او پیز اور مطلوبہ تربیت کا فقدان پایا گیا۔ پمز کے 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر موجود تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔ وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ آگ لگنے کے بعد پورے وارڈ کو لپیٹ میں لینے میں صرف تقریباً دو منٹ لگے، تاہم ایک نرس نے آگ کے تیزی سے پھیلنے سے قبل ایک بچے کی جان بچانے میں کامیابی حاصل کی۔

رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے تقریباً 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی، جبکہ پمز اسپتال میں پہلا ایمرجنسی رسپانس کال موصول ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد پہنچا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پاکستان Previous post فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری کے اقدامات کا جائزہ