
افریقہ میں پائیدار امن کیلئے تنازعات کی روک تھام کو مرکزی حیثیت دی جائے، ناصر بوریطہ
لوانڈا، یورپ ٹوڈے: مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ نے افریقی ممالک پر زور دیا ہے کہ براعظم میں امن و سلامتی کے فروغ کی کوششوں میں تنازعات کی روک تھام کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
لوانڈا میں افریقی یونین ایگزیکٹو کونسل کے 26ویں غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جو افریقہ میں تنازعات کی روک تھام اور حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے منعقد ہوا، ناصر بوریطہ نے کہا کہ تنازعات کے رونما ہونے کے بعد محض ردعمل دینے کے بجائے عدم استحکام کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن، سلامتی اور ترقی کے باہمی تعلق کو افریقہ میں انسدادی اقدامات کے مرکز میں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ براعظم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایسے حالات اور اداروں میں سرمایہ کاری ضروری ہے جو دیرپا امن اور استحکام کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
مراکشی وزیر خارجہ نے غیر معمولی اجلاس کے مقاصد اور سمت کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے لوانڈا ایکشن پلان اور اس کے نفاذ کے میٹرکس میں بیان کردہ اہداف کا خیرمقدم کیا۔
ناصر بوریطہ نے لوانڈا ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں افریقی یونین اور اقوام متحدہ کے درمیان مزید مضبوط رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں تنظیموں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی افریقہ میں تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل کی کوششوں میں رہنما اصول کے طور پر برقرار رہنی چاہیے۔
انہوں نے افریقہ میں تنازعات کی روک تھام کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مراکش کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت براعظم میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ سے متعلق اقدامات میں اپنا کردار جاری رکھے گی۔
مراکشی وزیر خارجہ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب افریقی ممالک براعظم میں تنازعات کی بروقت روک تھام، ثالثی اور پرامن حل کے لیے موجودہ طریقہ کار کو بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں، جبکہ عدم استحکام کا باعث بننے والے ساختی اور بنیادی عوامل سے نمٹنے پر بھی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔