شہباز شریف

وزیرِاعظم شہباز شریف کا عالمی یومِ امن پر پُرامن بقائے باہمی اور عالمی استحکام کے عزم کا اعادہ

Read Time:3 Minute, 6 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے عالمی برادری کی جانب سے عالمی یومِ امن منائے جانے کے موقع پر پاکستان کے پُرامن بقائے باہمی، عالمی استحکام و سلامتی، ترقی و خوشحالی کے مساوی مواقع، انصاف اور منصفانہ نظام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اپنے پیغام میں وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن کے فروغ میں اپنے تعمیری کردار پر فخر کرتا ہے اور تنازعات کے حل، کشیدگی میں کمی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں بھی مستقل طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جو ملک کے لیے باعثِ فخر ہے۔

رواں سال عالمی یومِ امن کے موضوع ’’سب کے لیے، ہر جگہ، ہر روز، امن میں سرمایہ کاری کریں‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ امن کو محض مسلح تنازعات کی عدم موجودگی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی امن کے ثمرات عوام کی معاشی و سماجی بہبود، بنیادی حقوق کے تحفظ، انسانی وقار و احترام، مساوی مواقع اور شمولیت کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیاز سے پاک، مساوی اور غیر امتیازی معاشرتی نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی اور معاشرتی سطح پر نفرت، تشدد، تعصب اور دیگر منفی رجحانات کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اور آئینِ پاکستان انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے ذریعے معاشرتی امن کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا محور تمام شہریوں کے مساوی حقوق اور ذمہ داریوں کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے، بالخصوص خواتین، بچوں، اقلیتوں، معذور افراد اور معاشرے کے دیگر کمزور اور پسماندہ طبقات کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کو انسانی حقوق کے تحفظ اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک جامع فریم ورک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ، نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی رویوں کی روک تھام، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے تحفظ کو مضبوط بنانے، انصاف تک رسائی بہتر کرنے اور ادارہ جاتی احتساب کے فروغ کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

وزیرِاعظم نے امن کی ثقافت کے فروغ میں تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کا انحصار اجتماعی سماجی شعور اور انفرادی فہم و آگہی پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جامعات میں شہری ذمہ داری، برداشت اور تنوع کے احترام کو فروغ دینا معاشرتی امن کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت انسانی حقوق اور امن کی تعلیم کو شامل کرنا حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ آنے والی نسلوں میں احترام، ہمدردی اور پُرامن بقائے باہمی کی ثقافت پروان چڑھائی جائے۔

وزیرِاعظم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کے تحفظ اور بروقت و مؤثر ادارہ جاتی ردِعمل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ریاست پر شہریوں کے اعتماد کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ نفرت، عدم برداشت اور امتیاز کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں اور ہمدردی، مکالمے اور دوسروں کے احترام کو فروغ دیں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن کی ثقافت کو مضبوط بنانا حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، اساتذہ، میڈیا، برادریوں اور خاندانوں سمیت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیرِاعظم نے پاکستان اور دنیا بھر میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کا یومِ ریاستی خودمختاری پر بیان، پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے عزم کا اظہار
زرداری Next post صدر آصف علی زرداری کا عالمی یومِ امن پر مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور