انڈونیشیا

انڈونیشیا کا مؤقف، سمندر کی سطح میں اضافے سے قانونی بحری حدود متاثر نہیں ہونی چاہئیں

Read Time:2 Minute, 30 Second

نیویارک، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے کہا ہے کہ موسمیاتی بحران، بالخصوص سمندر کی سطح میں اضافے، کو ممالک کی قانونی بحری حدود کے حوالے سے عالمی سطح پر قانونی غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سُگیونو نے نیویارک میں سمندر کی سطح میں اضافے سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمندری قوانین سے متعلق اقوام متحدہ کا کنونشن (UNCLOS) سمندری امور کے لیے بنیادی اور فیصلہ کن قانونی فریم ورک برقرار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سمندر کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیاں قانونی طور پر قائم ریاستی بنیادی خطوط، بحری حقوق اور ریاستوں کی بیرونی حدود کو متاثر نہیں کرنی چاہئیں۔

انڈونیشی وزیر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ UNCLOS اور متعلقہ بین الاقوامی عرفی قانون کا مستقل اور مربوط اطلاق یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے عالمی عدالت انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی ٹریبونل برائے قانونِ سمندر (ITLOS) کی قانونی تشریحات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مل کر اس امر کو یقینی بنائے کہ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح گزشتہ نسلوں کی قائم کردہ بنیادوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق کو متاثر نہ کرے۔

سُگیونو نے کہا کہ سمندر کی سطح میں اضافے سے ساحلی آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، جن میں رہائش گاہوں کا نقصان، روزگار میں خلل اور عوامی سلامتی کو درپیش خطرات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جزائر پر مشتمل ممالک خصوصاً ان خطرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جزائر پر مشتمل ریاست اور انڈو پیسیفک خطے میں واقع ملک ہونے کے ناطے انڈونیشیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ سمندر ملک کی شناخت، معیشت اور مستقبل سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

انڈونیشیا نے موسمیاتی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات بھی شروع کیے ہیں، جن میں ساحلی استحکام کے ایک پروگرام کے تحت 13 ہزار ہیکٹر سے زائد مینگروو جنگلات کی بحالی شامل ہے۔ حکومت جاوا کے شمالی ساحل کے ساتھ ایک وسیع ’’جائنٹ سی وال‘‘ تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے، جہاں زمین دھنسنے اور سمندر کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرات بڑھ رہے ہیں۔

انڈونیشی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے مؤثر اقدامات سائنسی شواہد اور درست اعداد و شمار پر مبنی ہونے چاہئیں تاکہ حکومتیں بہتر فیصلے کر سکیں، مؤثر ابتدائی انتباہی نظام قائم کر سکیں اور کمزور آبادیوں کو زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے عالمی سطح پر موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو قابلِ رسائی، مناسب اور پائیدار مالی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار میں اضافے کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

سُگیونو نے کہا کہ موسمیاتی لچک کے پروگراموں کا مقصد ماحولیاتی نظام کا تحفظ، عوام کے روزگار کا تحفظ اور معاشی مواقع میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکیہ Previous post سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی سربراہان کا اجلاس، مملکت کو درپیش سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیا گیا
آذربائیجان Next post صدر آذربائیجان الہام علییف سے گلوبل انفراسٹرکچر پارٹنرز کے چیئرمین ایڈیبایو اوگن لیسی کی ملاقات