
ڈیون اور کارن وال میں سیوریج آلودگی پر ساؤتھ ویسٹ واٹر کو 7.87 ملین پاؤنڈ کا ریکارڈ جرمانہ
لندن، ، یورپ ٹوڈے: ساؤتھ ویسٹ واٹر کو ڈیون اور کارن وال میں غیر قانونی سیوریج اخراج اور ماحولیاتی ذمہ داریوں سے متعلق 18 جرائم کا اعتراف کرنے کے بعد 7,867,733 پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ پلائی ماؤتھ مجسٹریٹس کورٹ کی جانب سے عائد کیا جانے والا یہ جرمانہ خطے میں ماحولیاتی جرائم پر اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ خلاف ورزیاں جنوری 2015 سے جولائی 2021 کے دوران بوڈمن، ہارلن، پلیئنگ پلیس، پولپرو اور پلائی ماؤتھ سمیت مختلف مقامات پر ہوئیں۔ 18 الزامات میں سے 17 غیر قانونی پانی کے اخراج سے متعلق تھے، جبکہ ایک الزام سیوریج پمپنگ اسٹیشن میں خرابی کے بعد مناسب تدارکی اقدامات نہ کرنے سے متعلق تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جنوری 2016 سے جولائی 2021 کے درمیان ہارلن ساحل پر 231 مرتبہ بغیر ٹریٹ کیا گیا سیوریج خارج کیا گیا۔ اسی طرح بوڈمن کے قریب سیوریج ورکس پر مارچ 2020 تک سات سال کے عرصے میں 336 غیر قانونی اخراج ریکارڈ کیے گئے۔ اگست 2019 میں پولپرو بندرگاہ میں تعطیلات کے دوران بغیر ٹریٹ کیا گیا سیوریج بندرگاہ کی دیوار سے بہہ گیا، جبکہ الارم بجنے کے باوجود کمپنی کے انجینئرز کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں 10 گھنٹے لگے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ پلائی ماؤتھ میں سیوریج لائن کے ایک مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے میں کمپنی ناکام رہی، حالانکہ ماحولیاتی ادارے کی جانب سے متعدد مرتبہ باضابطہ انتباہات جاری کیے گئے تھے۔ کمپنی کو 329,993 پاؤنڈ عدالتی اخراجات اور 120 پاؤنڈ متاثرہ فریق سرچارج بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
ماحولیاتی ادارے کے مطابق ان واقعات سے عوامی تفریح کے ساحلی مقامات، خصوصی ماحولیاتی تحفظ کے علاقے اور دیگر حساس قدرتی مساکن متاثر ہوئے۔ ساؤتھ ویسٹ واٹر نے ان واقعات کو ماضی سے متعلق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 760 ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سیوریج اخراج میں 17 فیصد جبکہ اخراج کے دورانیے میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔